حمد وستائش اس ذات مومن و مھیمن کے لئے جو اپنے بندوں کو امن سے نوازتا ہے۔ اور اپنے دین ِ قیم کے ذریعے معاشروں کے مسائل کو سلجھاتا ہے۔ اور درود وسلام خاص سزاوار ہے اس مسیحائے سلام و اسلام کو جس کی تعلیمات نے انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر انسانوں کے رب کی بندگی پر لگادیااور ان کے صحابہ اور اہلبیت کو جنہوں نے دنیا کو اس نظام سے متعارف کروایا۔ امابعد
Social, economic and legal motivations and effects of breach of peace and their remedy in the light of Prophetic teachings.
Noor Akram, Research
Scholar, Karachi University, Lecturer Govt Boys Degree College Jhuddo,
Email: noordawa1430@gmail.com https://orcid.org/0000-0003-2816-0850
Cell: 03343615439
Abstract:
Keywords: Peace, Breach of peace, motivations, solution, common law, Seerah, Islam
تعارف
کسی ملک اور قوم کو امن نصیب ہوجانا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بڑا فضل اور انعام ہے۔قرآن ِ کریم میں قریش کو دعوت دینے کے لئے ایک خصوصی پیرایہ یہ استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی جگہ اور وقت میں امن سے نوازا جب اردگرد کے لوگ بدامنی کی وجہ سے اپنے قبیلے سے دور نہیں ہوسکتے تھے جبکہ ان کو ایسا امن حاصل تھا کہ اپنے شہر میں بھی پرامن اور تجارت کے راستوں میں بھی انہیں امن حاصل تھا۔ آج پوری دنیا بدامنی کا شکار ہے ۔ اور یورپ سے لیکر افریقہ تک ترقی یافتہ ترین ممالک سے لے کر تیسری دنیا کے افراد تک ہر کوئی امن کو ترس رہا ہے۔اس آرٹیکل میں ہم نے یہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ آخر نقضِ امن کی وجوہات کیا ہیں اور سیرت نبوی ہمیں اس کا کیاحل دیتی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم نے نقضِ امن کے معاشی ، معاشرتی اور قانونی محرکات کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے پھر ان محرکات کے کیا اثرات کسی علاقے پر پڑسکتے ہیں انہیں جمع کیا ہے اور آخر میں ان تمام محرکات کا حل سیرت النبی کی روشنی میں تفصیل سے واضح کئے گئے ہیں۔
نقضِ امن
نقضِ امن چونکہ
دولفظوں کا مرکب ہے اور اس مرکب میں اصالت جزو ثانی کو حاصل ہے کیونکہ جزو
ِ اوّل تو درحقیقت اردو کا ایک "سابقہ" ہے جو کئی لفظوں کے ساتھ لگتا ہے
اور مثبت معنی ٰ کو منفی کردیتا ہے۔ یعنی نقض ِ امن کے ظاہری معنیٰ امن ٹوٹنا
اور عدم ِ امن کے ہیں تو گویا کہ ہمیں اس
مرکب کو سمجھنے کے لئے درحقیقت لفظ ِامن
کو سمجھنا ضروری ہے۔
لفظ امن کی وضاحت:
سب سے پہلے ہم لفظ امن کو اردو کی لغات سے
کھنگالنے کی کوشش کریں گے۔ امن کے معنی اردو لغت میں درجِ ذیل دئیے گئے ہیں:
اَمْن: ۔۱. پناہ ، حفاظت .۔۲-آرام ، چین ، سکون ، دلچسپی ، اطمینان . ۔۳- صلح و آشتی ، جنگ کی ضد .[1]
گویا کہ اردو میں امن خطرے سے پناہ حاصل کرنے اور کسی شخص یا آڑ کی حفاظت میں آجانے کے ہیں ۔
اور جب خطرہ ٹل جائے تو لازما انسان آرام
چین اور سکون حاصل کرلیتا ہے۔ اور اطمینان نصیب ہوتاہے۔ جب کہ صلح کو بھی امن اسی لئے کہاجاتا ہے کہ اس میں بھی خطرہ ٹل
جاتا ہے۔
امن کے انگریزی معنیٰ:۔
رہی بات کہ امن کوانگریزی میں کیا کہاجاتا ہے ؟ اس کے لئے
قومی اردو انگریزی لغت میں تلاش کی گئی تو
امن کے معنیٰ Peace کے ملے اور پھر
اس لفظ کی مزید اردو میں تشریح جو کی گئی وہ بھی پیش ِ خدمت ہے:۔
Peace: امن چَین؛ آرام؛ آسودگی؛ صلح؛آشتی؛ سلامتی؛ خیریت؛ سُکھ؛ راحت؛ امن وسکون؛ امن وامان؛ اطمینان کی حالت؛ خاموشی یا آرام؛ جنگ یا خصومت سے آزادی؛ جنگ وجدال کا خاتمہ؛ عدمِ تنازع؛ اطمینان قلب؛ دماغ کا سکون واطمینان؛ ہم آہنگی؛ متانت؛ امنِ عامہ اور نظم وضبط۔[2]
لفظ "peace"کے انگریزی لغات میں معنیٰ
اسی لفظ "Peace" کو انگریزی کی لغات میں تلاش کیا
گیا کہ خود انگریز اس لفظ کو کیا سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ایک مشہور
لغت مریم ویبسٹر میں اسے تلاش کیاتو درجِ ذیل معنیٰ معلوم ہوئے:۔
1: سکون یا خاموشی کی حالت: جیسے: شہری خلفشار سے آزادی،: قانون یا رواج کے ذریعہ فراہم کردہ کمیونٹی کے اندر سلامتی یا نظم کی حالت، 2: پریشان کن یا جابرانہ خیالات یا جذبات سے آزادی، 3: ہم آہنگی ذاتی تعلقات، 4: حکومتوں کے درمیان باہمی اتفاق کی ایک ریاست یا مدت،: جنگ یا دشمنی کی حالت میں رہنے والوں کے درمیان دشمنی کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ یا معاہدہ، 5۔خاموش یا پر سکون رہنے کی بے ساختہ دعا یا تہنیت کے طور پر کہاجانے والا لفظ ۔[3]
لفظ "امن" اور لفظ "peace" کی باہمی نسبت
اس
کے بیان کردہ نتائج جو بات سمجھ آتی ہے کہ انگریز ی زبان میں اس لفظ کے
بنیادی معنیٰ اردو زبان کے امن کے معانی کے برعکس ذہنی سکون سے تعلق رکھتے
ہیں ۔ کیونکہ کل پانچ معنیٰ میں سے صرف ایک معنیٰ جو نمبر چار پر بیان کیا
گیا ہے۔ وہ اردو لفظِ امن کے قریب ہے۔ انگریزی میں دراصل "peace" ہے کیا؟ اس لفظ پر مزید تحقیق کرنے
سے مجھے یہ سمجھ آیا کہ مشرق اور
مغرب میں جہاں اور بہت سارے فکری اختلاف
موجود ہیں انہیں اختلافات میں سے ایک اختلاف امن کے تصور میں بھی ہے۔امریکی
پروفیسرروڈل جوزف رومیل (1932۔2014) کی شہرۂ آفاق کتاب "انڈرسٹینڈنگ کنفلیکٹ اینڈ وار "
میں اس لفظ کی وضاحت بڑے تفصیل سے کی ہے۔ کیونکہ مصنف من جملہ اور اداروں
کے یونیورسٹی آف ہواوے کےبھی پروفیسر
رہے ہیں ۔ یونیورسٹی آف ہواوے نے ان کی اس کتاب کی پانچوں جلدیں اپنی ویب سائٹ پر عام قاری کے لئے پبلک
کی ہیں ۔ درجِ ذیل اقتباس بھی اسی ویب سائٹ کے واسطے سے پیش ِ خدمت ہے۔ مضمون کے
مصنف نے اس موضوع پر تفصیلی بات کرتے ہوئے مشرق اور مغرب کے تصور ِ امن کی الگ الگ
وضاحت ذکر کی ہے۔
امن ہمیشہ سے انسانیت کی اعلیٰ ترین اقدار میں شامل رہا ہے ، جبکہ کچھ کے لیےیہ لفظ سب سے اعلیٰ لفظ ہے ۔انگریزی کے درجِ ذیل محاوروں یا اقوالِ زریں پر غور کریں: "کسی بھی قیمت پر امن۔" یا "سب سے زیادہ نقصان دہ امن انتہائی منصفانہ جنگ سے بہتر ہے۔" "امن مکمل انصاف سے زیادہ اہم ہے۔" "میں سب سے زیادہ غیر منصفانہ امن کو اس منصفانہ جنگ پر ترجیح دیتا ہوں جو اب تک تھی ۔"4"کبھی بھی اچھی جنگ یا برا امن نہیں تھا۔"ان تمام محاوروں اور مشہور جملوں کے باوجود ہم اس بات پر بہت کم متفق ہیں کہ درحقیقت امن ہے کیا؟۔ شایدامن کے بارے میں سب سے زیادہ مقبول (مغربی) نظریہ :اختلاف، تشدد یا جنگ کی عدم موجودگی ہے۔یہ معنیٰ بنیادی طور پر عہدنامہ جدید سے آیا ہے اور ممکنہ طور پر امن کے لیے یونانی لفظ کا ہم معنیٰ ہے۔ امن پسندوں نے اس تعبیر کو اپنایا ہے، کیونکہ ان کی نظر میں ہر طرح کا تشدد غلط ہے۔ یہ معنی بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے درمیان بڑے پیمانے پر قبول کیے جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ بنیادی لغت کی تعریف ہے، تاہم امن ، کے معنی معاہدہ یا ہم آہنگی اور سکون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اسے ذہنی سکون یا عدمِ تناؤ کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے خاص طور پر مشرق میں اس کی تعریف قانون کی ریاست یا سول حکومت ، ایک انصاف یا اچھائی کی ریاست کے طور پر، یا طاقتوں کے توازن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ [4]
میرے
خیال میں مشرق میں امن کے جومعنیٰ سمجھے جاتے ہیں وہ درحقیقت وہی ہیں جوالبرٹ
آئنسٹائن کی طرف منسوب ہیں۔ البرٹ آئنسٹائن کے
بقول امن کی تعریف یہ ہونی چاہئیے:
Peace is not merely the absence of war but the presence of justice, of law, of order – in short, of government.[5]
بہرحال وکیبلری ڈاٹ کام میں گویا کہ امن کی
تمام تعریفات کا خلاصہ اور حاصل بیان کیا گیا ہے۔
امن تناؤ سے پاک سلامتی اور سکون کی حالت ہے جو اس وقت آتی ہے جب کوئی لڑائی یا جنگ نہ ہو، ہر چیز کامل ہم آہنگی اور آزادی کے ساتھ موجود ہو۔[6]
"نقضِ امن " مجموعے کے معنیٰ
امن کو سمجھنے کے بعد نقضِ امن کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔
بظاہر نقض امن ، امن کی ضداور فساد کا مترادف ہے ۔ اردو لسانیات کے حوالے سے اس موضوع پر کچھ پہلے اس
لفظ کی درست املاء پر بھی بحث چل چکی ہے کہ آیا یہ لفظ نقص ِ امن (امن کا نقصان)
ہے یا کہ نقض ِ امن (یعنی امن توڑنا ) ہے ۔ بہرحال اس پر تقریبا تمام لغاتِ موجودہ
متفق ہیں کہ درست لفظ نقض ِ امن ہی ہے۔ جب
لفظ "نقضِ امن " کو اردو کی مختلف آن لائن اور آف لائن لغات میں کھنگالنے
کی کوشش کی گئی تو درجِ ذیل نتائج سامنے آئے۔
اردو کی مشہور لغت فیروز اللغات میں نقض ِ امن کے معنیٰ یوں بیان کئے گئے ہیں۔
نقضِ امن: امن شکنی، فساد، جھگڑا[7]
جبکہ نقضِ امن کے معنیٰ ریختہ ڈکشنری میں درج ذیل مذکور ہے:
امن عامّہ کا بگاڑ، امن و امان میں خلل، جھگڑا، فساد، بلوہ[8]
گویا کہ اردو میں لفظ نقضِ امن ،لفظ " فساد" کا مترادف ہے۔
مرکب"نقضِ امن" کا انگریزی مترادف
انگر یزی میں اس کے
مترادف کے طور پر قومی انگریزی اردو لغت
میں تلاش کرنے پر نقضِ امن کا مرکب تو نہ مل سکا مگر صرف لفظ نقض کا مترادف "breach" ملا
۔ تو امن کے معنی کو ساتھ ملا کر مجموعے
کے معنیٰ "breach of peace" بنا۔ بہرحال breach کے معنیٰ پیش ِ
خدمت ہیں:۔
Breach:توڑنے کا عمل یا اس کا نتیجہ؛ ان بن؛ترک مراسم؛ قطع تعلق؛ خلاف ورزی؛ نقض؛ شکستگی؛ رخنہ؛ (خصوصاً قلعے کی دیوار میں گولوں کی مار سے) شگاف؛ سیندھ؛ نقب؛ توڑ کر نکل جانا؛ معاہدہ شکنی؛ قانونی خلاف ورزی۔[9]
Phrase "Breach of Peace" کے معنیٰ
انگلش کی مختلف ڈکشنریوں میں اس مجموعہ یا phrase
کے
معنیٰ تلاش کرنے پر وہی نتائج سامنے آئے
جو ہم نے لفظ پیس سے اندازہ لگائے تھے یعنی خاموشی توڑنا، کولینل انگلش ڈکشنری میں
اس کے معنیٰ یوں مندرج ہیں:
: Breach of the peace ہے شور مچانا یا پرتشدد رویہ عوامی جگہ پر ، جو غیر قانونی ہے کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔[10]
جبکہ اس لفظ کے بارے میں مریم ویبسٹر کی وضاحت بھی ملاحظہ ہو:
Breach of the peace: اسم جملہ:: بہت زیادہ شور مچانے یا عوام میں پرتشدد برتاؤ کرنے کا الزام: بد نظمی[11]
"Breach of the
peace"کی بطور جرم قانونی وضاحت
ان دونوں
ڈکشنریوں میں بیان کئے گئے معنیٰ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ باقاعدہ ایک مسلمہ جرم
ہے۔ تو اس جرم کی وضاحت قانونی نقطۂ نظر سے جاننے کی خاص کربرٹش لاء اور کامن لاء
کی وضاحت جاننے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں درجِ ذیل معلومات حاصل ہوئیں ۔ breach of law کی وضاحت برطانوی
لیجیسلیشن کے ایکٹ 1936 ء میں یہ کی گئی ہے:۔
کوئی بھی شخص جو کسی بھی عوامی مقام پر یا کسی
بھی عوامی جلسے میں امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے دھمکی آمیز، بدسلوکی یا
توہین آمیز الفاظ یا رویے کا استعمال کرتا ہے یا جس سے امن کی خلاف ورزی کا امکان
ہو، وہ جرم کا مجرم ہوگا۔[12]
لیگل انفارمیشن انسٹیٹیوٹ نے امریکہ کی مختلف ریاستوں کے قانونی اور
عدالتی سسٹم کی معلومات تک مفت رسائی ممکن
بنائی ہے۔ اس ویب سائٹ میں اس جرم کو کامن لاء کے جزو کے طور پر پیش کیا گیا ہے
اور اس کانام بریچ کی بجائے "ڈسٹربنس
آف پیس " رکھا گیا ہے۔
امن میں خلل (یا خلاف ورزی) ایک عام اصطلاح ہے جس میں مختلف طرز عمل شامل ہیں جو امن عامہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں، عوام کو پریشان کرتے ہیں، یا تشدد کو اکساتے ہیں، بشمول امن اور اچھے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی۔ یہ ایک مجرمانہ جرم ہے جسے عام قانون کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے۔[13]
انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا اس جرم کی
تفصیل اس طرح بیان کرتا ہے:۔
امن میں خلل ڈالنا، قانونی جرم کی تین مختلف اقسام میں سے کوئی بھی۔ اس کے وسیع تر معنوں میں، یہ اصطلاح خود جرم کا مترادف ہے اور اس کا مطلب ایک قابلِ جرم جرم ہے۔ تاہم، ایک اور اور زیادہ عام فہم میں، اس جملے میں صرف وہ جرائم شامل ہیں جو بنیادی طور پر کمیونٹی کے امن اور سلامتی پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے قابل سزا ہیں۔ ان جرائم میں فتنہ و فساد، غیر قانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی، زبردستی داخل ہونا اور حراست میں لینا، عوامی اجتماعات میں خلل ڈالنا، گھر میں بدنظمی کرنا اور بدنیتی پر مبنی فساد شامل ہیں۔ اس کے تیسرے اور تنگ ترین مفہوم میں یہ جملہ صرف ارادی طرز عمل تک محدود ہے جو کسی دوسرے مخصوص جرم کی تعریف میں نہیں آتا ہے لیکن جو غیر معقول طور پر عوامی سکون میں خلل ڈالتا ہے یا اس میں خلل پیدا کرنے کا شدید رجحان ہے۔ عام قانون میں، اور بہت سے قوانین کے تحت، اس طرح کی خلل یا امن کی خلاف ورزی ایک جرم کے طور پر قابل سزا ہے۔[14]
نقضِ امن اور بریچ آف
پیس میں فرق:۔
اس ساری وضاحت کو جاننے کے بعد جو بات کھل
کر اور واضح ہوکر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اردو کی اصطلاح نقض ِ امن اور انگریزی
اصطلاح بریچ آف پیس یا ڈسٹربنس آف پیس
ایک دوسرے کی بالکل مترادف نہیں
ہیں۔بلکہ ان میں بڑا فرق ہے۔یہ گویا کہ مشرق اور مغرب کی سوچ کے تضاد کو واضح کرتے
ہیں۔
مغربی سوچ کے مطابق بریچ آف پیس کا جرم تو کسی پر صرف شور مچانے
سے بھی لاگو ہو جاتا ہے خواہ وہ صرف اپنے
اوپر ہونے والے ظلم کی ہی دہائی کیوں نہ دے رہا ہو۔ جبکہ مشرقی معاشرے میں نقضِ امن
صرف شور مچانے سے واقع نہیں ہوتا۔ جبکہ کوئی عملی اقدام واقع نہ ہو۔
دوسری انتہامیں مغربی سوچ کے مطابق امن صرف
چپ کروادینے کا نام ہے۔ خواہ اس خاموش
کروانے کے لئے ظلم کا سہارا لیاہو، رشوت کا سہارا لیا ہویا کسی اور غلط طریقے سے
خاموش کروادے۔ جب کہ مشرق میں امن انصاف کا نام ہے۔اگر انصاف نہیں ہوا توخواہ خاموش
کروا دیا ہومگر امن نہیں کہلائے گا۔ اور مظلوم کے ساتھ دینے کے لئے کوئی نہ کوئی کبھی نہ کبھی کھڑا
ہوگا۔
بہرحال ہمارے اس آرٹیکل میں نقضِ امن سے مراد بریچ آف پیس ہی ہے کیونکہ یہ آرٹیکل عالمی تناظر میں لکھاجارہا ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں" کامن لاء "ہی نافذالعمل ہے۔
نقضِ امن کے محرکات:
اس آرٹیکل میں
ہم مختلف سماجی ، معاشی اور قانونی محرکات
کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔
نقضِ امن کے سماجی محرکات:
سماجی محرکات کو سمجھنے کے لئے سماج کا تعارف ضروری ہے:
سماج فیروزاللغات کے مطابق معاشرے کا مترادف ہے۔جبکہ معاشرے
کے معنیٰ درجِ ذیل ہیں:۔
جماعتی زندگی جس میں ہر فرد کورہنے سہنے اور
اپنی ترقی اور فلاح وبہبود کے لئے دوسروں سے واسطہ پڑتا ہے۔[15]
کیمبرج آن لائن ڈکشنری کے مطابق سوسائٹی یا سماج کی تعریف
درج ذیل الفا ظ میں درج ہے:
لوگوں کا ایک بڑا گروپ جو ایک منظم طریقے سے اکٹھے رہتے ہیں، کام کرنے کے طریقے کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں اور جو کام کرنے کی ضرورت ہے اس کا اشتراک کرتے ہیں۔ ایک ملک کے تمام لوگوں کو، یا اسی طرح کے کئی ممالک میں، ایک معاشرہ کہا جا سکتا ہے۔[16]
اس تعریف سے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ معاشرہ ایک
بااصول اور منظم گروہ کا نام ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ خود
قانون سے بنتا ہے۔گو یا کہ سماجی محرکات بھی دراصل قانونی محرکات ہوں گے۔ البتہ ہم
یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں معاشرتی یا سماجی اسباب سے وہ اسباب مراد ہیں جو کہ لوگوں
کے آپس میں بنائے گئے رسوم و رواج ہیں۔ جن پر لوگ باہم ایک دوسرے سے ملنا جلنا یا
ناراضگی طے کرتے ہیں۔ ڈکشنری ڈاٹ کام میں
سوسائٹی کے تفصیلی معانی بیان کئے گئے ہیں:۔
مذہبی، فلاحی، ثقافتی، سائنسی، سیاسی، حب الوطنی، یا دیگر مقاصد کے لیے ایک ساتھ منسلک افراد کا ایک منظم گروہ۔مترادفات: کمپنی، برادری، دوستانہ، ساتھی، تنظیم،منفرد انسانوں کا ایک مجموعہ کسی کمیونٹی کے ممبر کے طور پر منسلک یا دیکھا جاتا ہے: انسانی معاشرے کا ارتقا۔دوسرے معنیٰ : بڑے پیمانے پر رہنے والے کمیونٹی کے لیے انسانی تنظیم کا ایک انتہائی منظم نظام جو عام طور پر اپنے اراکین کے لیے تحفظ، تسلسل، سلامتی اور قومی شناخت فراہم کرتا ہے: جیسا کہ امریکی معاشرہ۔ تیسرے معنیٰ: ایسا نظام جس کی خصوصیات اس کے غالب معاشی طبقے یا شکل سے ہوتی ہے: متوسط طبقے کا معاشرہ۔ صنعتی معاشرہ۔ چوتھےمعنیٰ: جن کے ساتھ صحبت ہے۔ ساتھ رہنے والے دوست: پانچویں: اچھے دوستوں کی سوسائٹی سے لطف اندوز ہونا۔ مترادفات: رفاقت۔ امیر، ممتاز، یا فیشن ایبل افراد کی سماجی زندگی۔چھٹے: سماجی طبقہ جو ایسے افراد پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کی حالت جو دوسروں کے ساتھ میں رہتے ہیں، یا کسی کمیونٹی میں ناکہ تنہائی میں۔ بائیولوجی: ایک ہی نوع کے سماجی حیاتیات کا ایک قریب سے مربوط گروپ جو محنت کی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ کلیسائی۔ کلیسیائی معاشرہ[17]
معاشرے
کے معنیٰ گویا کہ لوگوں کے ایک ایسے مجموعے کا ہے جو ایک ساتھ رہتے ہیں ۔ اور ان کے اپنے رسوم ورواج ہیں۔ انسان چونکہ
سوشل اینیمل ہے اور تنہائی میں نہیں رہ سکتا تو اسے قانون کے علاوہ اپنے رسوم
ورواج کو بھی فالو کرنا ہوتا ہے۔ یہ
ہوسکتا ہے کہ معاشرے میں رہنے کی وجہ سے کسی کو غیرقانونی کام بھی کرنا پڑجائے ۔
کیونکہ معاشرے کی نظر میں اچھا بننا
اور برا نہ بننا بھی ایک مسئلہ ہے۔ ہوسکتا ہے کوئی ہندو " ستی
" کی رسم اپنے معاشرے میں تعریف حاصل کرنے کے لئے کرنے پر راضی ہوجائے۔ تو ایسا بھی ممکن ہے کہ انسان معاشرے اور سماج
کی وجہ سے نقض ِ امن پر تیار ہوجائے۔
اگر ہم سماجی سطح پر امن کی خرابی یا نقضِ امن کے ممکنہ طور پر محرکات تلاش کریں خاص کر 21 ستمبر کو عالمی یوم
امن کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف اخبارات میں چھپنے والے آرٹیکلز وغیرہ کا
جائزہ لیں تو معاشرتی طور پر نقضِ امن کے
اسباب کا استقراء عالمی دانشوروں کی نظر میں چار چیزیں ہیں ۔ عمومی
طور پر بیان کئے گئے محرکات درجِ ذیل ہیں :
انتہاپسندی، عدم برداشت یا عدم ِ رواداری،تعلیمی فقدان یا کم علمی
انتہا پسندی:
انتہا پسندی کے لغوی معنیٰ
تو بظاہر انتہا کو پہنچ جانا ہے ۔ انتہا پسندی بنیادی طور پر تمام انسانی
طبقات میں پائی جاتی ہے۔ یہ انگریزی
لفظ" ایکسٹریم ازم" کا اردو ترجمہ ہے ۔ اس کے لئے ہم انگریزی لغت
آکسفورڈ ڈکشنری سے اس کے معنیٰ تلاش کرتے ہیں:۔
انتہا پسندی : سیاسی، مذہبی، وغیرہ ،خیالات یا
اعمال جوکہ انتہائی ہیں اور نارمل نہیں ہیں،یا معقول نہیں ہیں یا زیادہ
تر لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں۔ سیاسی/مذہبی انتہا پسندی، نئے عالمی خطرات ہیں جو کہ بین الاقوامی دہشت گردی اور پرتشدد
انتہا پسندی پر مشتمل ہیں۔[18]
گویا کہ اس تعریف کے مطابق انتہاپسندی کی
بنیاد مذہبی یا سیاسی ہوسکتی ہے۔بنیادی طور پر یہ اصطلاح اقلیتوں کی طرف سے اختیار
کئے گئے غلط رویے کوہدف بناتی ہے۔ یعنی اس نقضِ امن کا مرتکب شخص کسی چھوٹے مذہبی
معاشرے یا چھوٹے سیاسی معاشرے میں رہنے والا ہے یا اس سے متاثر ہے اور اس کے اعمال
اور سوچ اکثریت کی سوچ اور خیال کے برخلاف ہے ۔
عدم برداشت:
اس کے لغوی
معنیٰ تحمل اور صبر کی کمی ہے۔ بظاہر اپنے
سے مختلف سوچ، عمل یا رویے پر صبر نہ کرپانا اور اس پر اپنے تحمل کوکھودینا عدمِ
برداشت یا عدم رواداری کہلائے گا۔ درحقیقت یہ بھی ایک انگریزی اصطلاح "اِ ن
ٹالرینس" کا ترجمہ ہے ۔ اس انگریزی اصطلاح کے معنیٰ بھی ہم آکسفورڈ سے تلاش
کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
عدم رواداری: آپ کے اپنے سے مختلف خیالات یا برتاؤ کے طریقوں کو قبول کرنے کے لیے
تیار نہ ہونے کی حقیقت، مذہبی عدم برداشت، اقلیتوں کی عدم برداشت، کسی کے لیے عدم
برداشت/ بنیادی عدم برداشت کچھ دوسرے لوگوں کے لیے اور ان کی ثقافت کے لئے. [19]
گویا کہ
یہ اصطلاح سابقہ اصطلاح کا عکس اور الٹ ہے۔ یہ اصطلاح اکثریت کے اقلیت کو
برداشت نہ کرسکنے سے پیدا ہونے والا نقضِ
امن کو ہدف بناتی ہے۔ عمومی طور پرمعاشروں
میں اقلیتوں کے بارے میں عدمِ برداشت کے مظاہرے عالمی اور مقامی سطح پر پیش آتے رہتے ہیں۔
کم علمی یا تعلیمی فقدان:
عالمی دانشوروں کی
ایک بڑی تعد اد کا خیال ہے کہ سماجی محرکات میں سے نقضِ امن کا ایک بہت بڑا کم
علمی اور تعلیمی فقدان ہے۔ معاشی سبب غربت کو وہ تعلیمی فقدان کی بڑی وجہ مانتے ہیں ۔ گویا کہ
غربت کی ہی وجہ سے کم علمی رہتی ہے اور کم علمی کی وجہ سے آخرکار وہ غریب ہی رہ
جاتے ہیں ۔ بہر حال تعلیمی فقدان کے لئے انگریزی میں استعمال ہونے والی اصطلاح "lake of education" یا "uneducated"
استعمال ہوتی ہے۔آکسفورڈ ڈکشنری میں
اس اصطلاح کے معنی یوں مذکور ہیں۔
غیر تعلیم یافتہ (صفت): کسی اسکول میں رسمی تعلیم
بہت کم حاصل کی ہو یا بالکل نہ کی ہو۔ تعلیم کی کمی کو ظاہر کرنا ، غیر تعلیم یافتہ
افرادی قوت، غیر تعلیم یافتہ نقطہ نظر [20]
حالانکہ غربت معاشی اسباب میں سے ہے اور اس کی تفصیل
وہاں ذکر کریں گے مگر چونکہ تعلیم کے فقدان کو غربت کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے
اس لئے یہاں مزید تفصیل سے پہلے اس اصطلاح
کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے۔ غربت کے لئے انگریز میں "poverty"
لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے معنیٰ آکسفورڈ
ریفرنس میں درجِ ذیل ہے:۔
غربت غریب ہونے کی حالت ہے۔ یعنی زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، صحت، تعلیم اور رہائش کا فقدان۔ اکثر، گھریلو آمدنی کے سلسلے میں غربت پر بحث کی جاتی ہے، حالانکہ اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ درحقیقت، غربت کی وضاحت اور پیمائش کے لیے متعدد مختلف طریقوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ ایک فرق 'مکمل غربت' اور 'نسبتا غربت' کے درمیان ہے۔ مطلق غربت کی تعریف آمدنی یا زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات کے لحاظ سے کی گئی مادی محرومی کے طور پر کی جاتی ہے۔[21]
ان دونوں اصطلاحات کو سماجی نقضِ امن کے اسباب میں سے نہ
صرف مانا جاتا ہے بلکہ اسے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ غربت کی وجہ سے انسان
تعلیم حاصل نہیں کرتا اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے حقوق اور فرائض سے ناواقفیت رہتی ہے۔ اسے نہ تو
اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی کسی اور کے حقوق سے واقفیت ہوتی ہے۔ نہ ہی
اپنے فرائض ادا کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں کے فرائض سے۔ نتیجتا وہ کسی بھی چیزکو
حاصل کرنے کے لئے قانون اور متعلقہ طریقہ کار سے ناواقف ہوتا ہے ۔ اور بات
کرنے کے لئے کسی بھی بنیاد، منطق ، اصول یا قانون سے بے بہرہ ہوتا ہے۔ نتیجتا نقضِ
امن کا مرتکب ہوتا ہے۔اور غیرقانونی اور غیرفطری طریقوں میں ملوث ہوکر معاشرے کے
امن کے لئے خطرہ بن جاتا ہے۔ یہاں ایک یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا غربت ، تعلیمی فقدان کا باعث ہے یا تعلیمی فقدان
غربت کا باعث ہے۔ عمومی طور پر دانشور ان
کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا قرار دیتے ہیں ۔ اور بعض غربت کو اس کا باعث قرار دیتے
ہیں ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر مثلا تعلیم کوئی شخص حاصل کرے تو اس کے پاس
زیادہ امکان ہے کہ وہ اپنی غربت بھی ختم کرلے نیز معاشرے کے لئے خطرہ نہ رہے۔اس
سلسلے میں اقوامِ متحدہ میں مفت تعلیم کو عام کرنے کے لئے کوششیں قابل ِ تعریف
ہیں۔ تعلیم بطورِ امن کے قیام کا ذریعہ
اور غربت کے خاتمے کا سبب اقوام متحدہ کی
میٹنگ کا عنوان اور لنک پیش ِ خدمت ہے:
Education ‘an Engine for Poverty Eradication, Force for Peace’, Says Secretary-General in Message Marking International Day[22]
نقضِ امن کے معاشی محرکات:
عالمی ماہر ین کے خیال میں نقض ِ امن کا ایک بہت بڑا محرک معاشی ہوسکتا ہے۔ معیشت کو انگریزی میں "Economy"
کہتے ہیں جس کی تعریف انویسٹوپیڈیا میں درجِ ذیل الفاظ میں مذکور ہے:
The economy is the total of all activities related to the production, sale, distribution, exchange, and consumption of limited resources by a group of people living and operating within it.[23]
معیشت اس کے اندر رہنے والے اور کام کرنے والے
لوگوں کے ایک گروپ کے ذریعہ پیداوار، فروخت، تقسیم، تبادلے، اور محدود وسائل کی
کھپت سے متعلق تمام سرگرمیوں کا مجموعہ ہے۔
جبکہ کیمبرج ڈکشنری میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔:
the system of trade and industry by which the wealth of a
country is made and used:[24]
تجارت اور صنعت کا نظام جس کے ذریعے کسی ملک کی
دولت بنائی اور استعمال کی جاتی ہے۔
اس تعریف کا حاصل یہ ہے کہ معیشت میں ہر وہ وسیلہ اور ایکٹیویٹی داخل ہے جس سے انسان پیسہ کماسکے ۔
گویا کہ معیشت ہر طرح کے کاروبار، لین دین ، زراعت یا کسی قسم کی نوکری وغیرہ سب کواحاطہ
کرنے والا لفظ ہے۔ اور معاشی محرک کا مطلب کوئی بھی ایسا فعل ہے جس کی بنیاد معاش
ہے۔اس سلسلے میں ماہرین دو معاشی محرک
عمومی طور پر بیان کرتے ہیں :غربت اور
دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم
غربت:
غربت کی تعریف ہم سابق میں ذکر کرآئے ہیں۔ غربت کی دوقسمیں
سابق میں بیان کردہ تعریف میں ہی موجود ہیں۔ بالکل غریب یا نسبتا غریب۔دونوں صورتوں
میں غربت کو "نقضِ امن " کا ایک بڑا سبب
سمجھا جاتا ہے۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ غربت انسان کو نقضِ امن پر مجبور کرتی ہے
اور غریب انسان اپنی غربت سے تنگ آکر ہر طرح کے جرائم کی طرف باآسانی راغب
ہوسکتاہے۔ غربت کا ایک اہم سبب تعلیم کی کمی بھی سابق میں مذکور ہو چکی ہےیہاں
غربت کے کچھ دیگر اسباب کو بیان کرنا اہم ہوگا۔
غربت کے اسباب:
سستی:
غربت کے اسباب میں سے ایک بڑی وجہ سستی ہے۔ کہ انسان اس قدر آرام طلب ہوجاتاہے کہ وسائل ہونے کے باوجو د اپنے حالات کو بہتر کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا اور غریب ہی رہتا ہے۔[25]
بیروزگاری:
غربت کے اسباب میں
سے ایک اور بڑا سبب وسائل کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ کوشش کے باوجود کوئی نوکری نہ ملنا ہے۔ اگر کسی انسان کے پاس وسائل یا
نوکری نہ ہوتو وہ کوشش کے باوجود بھی کچھ
حاصل نہیں کرپاتا اور غریب ہی رہتا ہے۔[26]
جنگ ،تصادم یا جھگڑا:
جنگ ،جھگڑا یا تصادم
غربت آنے کی بڑی وجہ ہیں۔ بعض دفعہ جھگڑوں کے اوپر انسان اپنے سارے معاشی
وسائل لگا دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ جھگڑوں سے پیدا ہونے والی دشمنیوں کے نتیجے
میں انسان محدود ہوکر رہ جاتا ہے اور صحتمند معاشرتی ترقی کے مواقع سے محروم
ہوجاتا ہے۔[27]
شیلٹر یا گھر سے محرومی:
گھر ہر انسان اور
ہر فیملی کی سب سے بنیادی ضرورت ہے ۔ اور بہت سے لوگ گھر نہ ہونے کی وجہ سے یا
خانہ بدوش ہونے پر مجبور ہوتے ہیں اور کسی ایک جگہ رہ کرکمانے کے قابل نہیں ہوتے
اور یا کرایہ کے گھر میں رہنے کی وجہ سے
کمائی کا بڑ احصہ گھر میں رہنے پر
لگانے پر مجبور ہوتےہیں۔[28]
بیماری:
انسان کے غربت کی وجوہات میں سے ایک اہم اور بہت زیادہ
اثرانداز ہونے والی چیز بیماری ہے۔ پہلی قسم کی بیماریاں وہ ہیں جو خود انسان کو
مستقل طور پر معذور کردیتی ہیں ۔ دوسری قسم کی وہ بیماریاں ہیں جن کے علاج بہت
مہنگے ہیں اور انسان بیماری سے چھٹکار ا حاصل کرنے کےلئے اپنا سارا کمایا ہوابھی
گنوا بیٹھتا ہے۔[29]
موسمی تبدیلیاں:
غربت کی ایک وجہ
موسمیاتی تبدیلیاں بھی ہیں۔ بعض دفعہ بارشوں کا نہ ہونا یا بارشوں کا ضرورت سے
زیادہ ہوجانا بھی غربت کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض آفتیں انسان کی ساری زندگی کی کمائی اور
جمع پونجی ختم کردیتی ہیں جیسے زلزلہ ، سیلاب، وغیرہ [30]
انفراسٹرکچر کی کمی:
بعض علاقوں کے لوگ انفراسٹرکچر ، روڈ سڑک وسائل ِ آمدورفت
و رابطہ وغیرہ کی کمی کی وجہ سے بھی
محرومیوں کا شکار رہتے ہیں اور اپنے حالات بہتربنانے کے وسائل پر قادر نہیں ہوتے۔[31]
حکومتی کرپشن:
غربت کے منجملہ اسباب میں سے ایک بڑی بیماری کرپشن ہے۔ جہاں
معیشت میں کرپشن ایک لازمی جزو بن جائے تو بعض باضمیر لوگ غربت پر صبر کرلینا کرپشن کے ذریعے سے اپنے حق حاصل
کرنے پر بھی مقدم کرلیتے ہیں اور اپنے ضمیر کی تسکین پر مطمئن رہتے ہیںَ۔[32]
دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم:
نقضِ امن کے من جملہ اسباب میں سے ایک دولت کی غیرمنصفانہ
تقسیم بھی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ تنخواہوں
میں بہت زیادہ تفاوت، وسائل کی تقسیم میں کرپشن ، نیز ارتکاز دولت بھی ہے۔[33]
نقضِ امن کے قانونی محرکات:۔
نقض ِ امن کے محرکات میں سب سے اہم اور بڑا محرک قانونی
ہے۔ کیونکہ درحقیقت اگر قانون درست، انصاف
کے ساتھ اور بروقت اثرانداز ہو تو معاشرے میں سماجی اور معاشی مسائل واقع
ہی نہ ہوں ۔ جتنے بھی معاشی یا سماجی محرکات کا ہم نے سابق میں ذکر کیا ہے وہ
بے رحم اور مساوی انصاف کے سامنے کبھی بھی کھڑے نہیں ہوسکتے ۔کیونکہ معاشرہ
درحقیقت بنتا ہی قانون سے ہے۔ اور معاش کی درستگی بھی قانون کی محتاج منت ہے۔
قانون کے اثرات کے بارے میں یواین کی اسٹیٹ منٹ ملاحظہ ہو۔
No matter who we are or where we live, the rule of law affects us all. It is the foundation for communities of justice, opportunity, and peace—underpinning development, accountable government, and respect for fundamental rights.[34]
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کون ہیں یا ہم کہاں رہتے ہیں، قانون کی حکمرانی ہم سب کو متاثر کرتی ہے۔ یہ انصاف، مواقع، اور امن کی کمیونٹیز کی بنیاد ہے- ترقی، جوابدہ حکومت، اور بنیادی حقوق کے احترام پر۔
مختلف دانشوروں کے خیال میں معاشرے میں نقض ِ امن کے قانونی
محرکات ممکنہ طور پر درجِ ذیل ہوسکتے ہیں۔ نقضِ امن کے یہ محرکات صرف پسماندہ
ممالک کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ سیکولر قانون اور کامن لاء میں عمومی طور پر یہ
بیماری ترقی یافتہ ترین ممالک میں بھی موجود ہیں۔:۔
انصاف کی فراہمی میں تاخیر:
انصاف کی فراہمی میں تاخیر مظلوم کو اپنا حق ملنے سے ناامید
کردیتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں ناصرف مظلوم کو بلکہ پورے معاشرے کو انصاف پر یقین
ختم ہوجاتا ہے ۔ اور لوگ قانون سے رابطہ کرنے کی بجائے یا تو زورِ بازو استعمال
کرتے ہیں اور یااللہ کے دربار میں فیصلے کی امید لگاکر خاموش ہوجاتے ہیں۔ [35] اسی
لئے موجودہ نظام ِ انصاف معاشرے میں انصاف فراہم کرنے کی بجائے ، شور ختم کرنے پر
زور دیتاہے۔
قانون کی حکمرانی میں کمی:
اگر قانون موجود نہ
ہو یا قانون کا قیام مساوی نہ ہو۔ قانون
طاقتور اور مال دار کا غلام ہو تو بھی مظلوم اور معاشرہ انصاف سے ناامید
ہوجاتاہے۔ موجودہ نظامِ انصاف میں مکمل
لاء اینڈا ٓرڈر والے ممالک میں بھی قانون کی حکمرانی محدود ہے ۔ طاقتور مالدار
لوگ قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
مہنگا انصاف:
موجودہ نظام انصاف اس قدر
مہنگا ہے کہ ایک غریب آدمی انصاف حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ بہرحال غریب کو
خاموش کروانے کا کام ضرور کرتا ہے۔
جانبدار انصاف:
موجودہ نظام ِ
انصاف کا ایک بڑا مسئلہ جانبدار ہونا ہے۔ یہ انصاف مال دار کے سامنے بکتا بھی ہے، طاقت ور کے
سامنے جھکتا بھی ہے۔ اور اپنے رشتے دار وں اور جاننے والوں کے لئے جانبدار بھی ہے۔
نظامِ انصاف میں مظلوم کی بجائے ظالم کو سپورٹ کرنے کی روش:
یہ نظامِ انصاف مظلوم کی بجائے ظالم کو سپورٹ کرتا ہے۔ اس نظامِ انصاف کی تعلیم ایک وکیل کو یہ تربیت دیتی ہے کہ اس
نے پیسے کا ساتھ دینا ہے مظلوم کاساتھ نہیں دینا۔ وکیل جانتے بوجھتے ظالم کو
ڈیفینڈ کرتا ہے۔اور ظالم کا ساتھ دینا باقاعدہ پروفیشن ہے۔ حالانکہ نظام ِ انصاف میں ظالم کا ساتھ دینے
والے کو بھی ظلم میں شریک سمجھا جانا چاہئیے۔
غیرمنصفانہ انصاف:
موجودہ نظامِ انصاف
ظالم کو رعایت دیتا ہےاور مظلوم کو برابر کا انصاف ملنے کی راہ میں رکاوٹ
بنتا ہے۔ ظالم خواہ کتنا ہی درندہ صفت کیوں نہ ہو۔ اس نے کتنے ہی ظالمانہ طریقے
سے قتل کئے ہوں مگر موجودہ نظام ِ انصاف اس درندے کو برابر کی سزادینے سے مانع ہے۔
جس کی وجہ سے معاشرے میں ظلم کرنے والوں کو عبرت نہیں ملتی۔
نقضِ امن کے اثرات:۔
نقضِ امن کے تینوں محرکات ، امن عامہ تباہ کرنے کے علاوہ
برائیوں کے پھیلنے کا سبب بنتے ہیں ۔معاشرہ مسلسل تباہی کا شکار ہوتا رہتاہے۔ امیر
امیر تر ہوتے جاتے ہیں جبکہ غریب غریب ترہوتے
جاتے ہیں ۔
معاشرتی انتشار:
معاشرتی محرکات سےپیدا ہونے والے نقضِ امن کے نتیجے میں معاشرتی زندگی یوں تباہ ہوتی ہے کہ لوگ اچھی صفات اور اچھے اخلاق حاصل کرنے کی تگ ودو
کرنے کی بجائے عصبیت ،تعصب، قوم پر ستی
اور فرقہ واریت کی طرف راغب ہوتے
ہیں تاکہ طاقت حاصل ہو اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے زورِ بازو استعمال کرسکیں۔
شریف انسان ہونا جرم بن جاتا ہے اور ظالم، غنڈا گرد، بددیانت شخص قوم کا سردار
کہلاتاہے۔
معاشی تباہی:۔
معاشی محرکات کے نتیجے میں پیدا ہونے والانقض ِ امن معاشی
تباہی کا بھی باعث بنتا ہے۔ مال و دولت چند ہاتھوں میں جمع ہوجاتا ہے۔ عوام میں بے روزگار اور غربت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ نقض ِ امن کی وجہ سے
غیرملکی سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے۔
لاقانونیت کا رواج:۔
قانونی محرکات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقضِ امن کا ایک
لازمی نتیجہ لاقانونیت کا عام ہونا ہے۔
لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیتے ہیں یا طاقتور بلاخوف وخطر کے ظلم کرتے
ہیں۔
اسلام میں امن کی اہمیت:۔
اسلام کے لغوی معنیٰ ہی امن اور سلامتی کے ہیں۔ کیونکہ اسلام کے دوبنیادی لفظ
ایمان اور اسلام دونوں کی حقیقت امن اور سلامتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی سیرت طیبہ میں امن کی اہمیت کااندازہ
صلحِ حدیبیہ کی شرائط سے لگایا جاسکتا
ہے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امن کے لئے اپنے صحابہ کی مرضی کے
برخلاف جاکر دب کر صلح کرنا گوارا کیا۔ اور یہ روایت مسلم فاتحین میں چلتی رہی حتی کہ صلاح الدین
اور ٹیپوسلطان نے اسی سنت کی اتباع میں بجائے اپنا مفاد حاصل کرنے کے صلح کو ترجیح دی ۔ قرآن کریم بار بار امن
کو مختلف پیرایوں میں بیان کرتا ہے۔
اللہ کے محبوب پیغمبر
حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کے مستقبل کی دعاکرتے وقت پہلاسوال ان کے شہر کو پرامن
کرنے کا کیا[36] ۔ جس کے نتیجے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس شہر کو پرامن
بنایا اور پھراس کو بطور خاص احسان جتایا ہے:[37]اور
خاص کر مکہ والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا واضح طور پر ذکرفرمایا ۔[38]
اور مکہ والوں کے لئے یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس امن کی وجہ اور سبب جس کی بدولت وہ دنیا میں
پرامن سفر اور روزی کو انجوائے کررہے ہیں خانۂ خدا کا ہونا ہے۔
﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (٣) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾[39]
یہی نہیں اسلام نے آخرت اور جنت کی زندگی کے انعامات میں بھی امن کی نعمت کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔
اسلام کی بنیادی خصوصیت اور اسلامی تعلیمات کا حاصل ہی امن
وامان قائم کرناہے۔ قرآن کی نظرمیں امن ایک عطیۂ خداوندی ہے جس سے اللہ تعالیٰ
کسی قوم کو بطور ِ انعام نوازتے ہیں۔
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا﴾[44]
قرآن ِ کریم میں امن کا ذکر مزید درجِ ذیل
مقامات پر مخصوص طور پر آیا ہے۔[45]
سماجی محرکات کاحل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں
تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں سابق میں بیان کئے گئے محرکات کاحل اور تدارک درجِ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔
رواداری اور برداشت بطور ِ سنت نبوی:۔
تحمل اور بردباری جنہیں ہم برداشت کے لفظ سے
بھی تعبیر کرسکتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کی ناصرف یہ کہ سنت ہیں بلکہ پسندیدہ عادتیں
ہیں ۔ یہ دونوں صفات آپ ﷺکے صفاتی نام بھی ہیں اور آپ ﷺ اپنی امت میں ان صفات کی
خصوصی تحسین فرماتے تھے۔جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد حضور ﷺ پر ایمان لانے کے لئے
حاضر ِخدمت ہوا تو، حضورﷺ نے ان کے سردار کی تعریف فرماتے ہوئےجو ارشاد فرمایا اس روایت کو کئی کتب ِ حدیث میں
نقل کیا گیا ہے ۔جن میں سے صحیح مسلم کے الفاظ کا ترجمہ ہے:
"تم
میں دو صفتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ عزوجل پسند کرتاہے اور وہ دونوں باتیں ہیں تحمل اور سکون ۔([46])
"
لفظ "حلم
اور اناۃ"جو اس حدیث میں استعمال ہوئے ہیں
دونوں قریب المعنیٰ ہیں اور دونوں عدم برداشت کی ضد ہیں، مگر شارحین نےان
کی تشریح میں تھوڑا سا فرق کیا ہے : ان کے بقول لفظ حلم کا تعلق عقل سے ہے یعنی
کسی بھی حالت کی وجہ سے وہ مغلوب العقل
نہیں ہوتا اور سوچ سمجھ برقرار رہتی ہے جبکہ لفظ اناۃ سے مراد جسمانی سکون لیا گیا ہے۔ جو کہ جلد بازی کی ضد ہےیعنی وہ کسی طرح کا
فوری جسمانی رد عمل نہیں دیتا ۔ حلم اور اناۃ کے حوالے سے دیگر ارشادات میں
"حلم" والوں کوحضورﷺ نے صف میں اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، اور اسی طرح" اناۃ"
کو اللہ تعالی ٰ کی طرف سے نعمت قرار دیا۔
رواداری اور برداشت بطور مسلم حکمرانوں کی پہچان:
عدم ِ برداشت مسلم معاشرے کی مخصوص صفت اور
امتیاز رہی ہے ۔ عمومی طور پر مسلم حکمران اور معاشروں کی یہ صفت لاینفک رہی ہے۔ اس
سلسلے میں نمونے کے طور پرہم بیت المقدس
کی تاریخ سے برداشت اور عدم ِ برداشت کا سبق لے سکتے ہیں۔ مسلمانوں نے بیت
المقدس کو دو دفعہ فتح کیا ، اور تقریبا 1200 سال تک اس شہر پر حکمرانی
کی۔مسلمانوں نے وہاں موجود غیرمسلموں کے
ساتھ کیسی رحم دلی کامعاملہ کیا۔ اور جب مسلمانوں سے بیت المقدس چھیناگیا تو وہاں
مسلمانوں کے ساتھ کیسی ظلم وبربریت کو روا
رکھا گیا۔اس سلسلے میں ایک یہودی مؤرخ "کیرن آرم اسٹرانگ "کی بیت
المقدس کی تاریخ پر لکھی کتاب" Jerusalem One City Three Faiths جسکا اردو ترجمہ
"یروشلم ایک شہر تین مذہب " کے نام سے پی این ایس ہمالیہ کی لائبریری
میں موجود ہے ،کے اقتباسات بہت اہم ہوں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب بیت
المقدس 638ء میں فتح کیا اس کے بارے میں
مصنف رقمطراز ہیں :
"عمر رضی اللہ عنہ نے بادشاہ داؤد کے علاوہ یروشلم کے کسی بھی فاتح کے برعکس توحید پرستوں کے نصب العین رحم ومروت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کسی خون ریزی کے بغیر جس طرح پرامن طریقے سے شہرکی تسخیر کا مرحلہ طے کیا ۔ اس کی مثال شہر نے اپنی طویل اور المناک تاریخ میں نہ پہلے دیکھی تھی اور نہ دوبارہ دیکھ سکا۔ جب عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دئیے تو کوئی کشت وخون ہوا اور نہ غارت گری ، مذہبی مقامات کو جلایا گیا اور نہ کسی کو جلاوطن کیا گیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ انہیں زبردستی مسلمان بنایا جائیگا لیکن ایسا کوئی فرمان بھی سامنے نہ آیا۔ اگر شہر کے سابق قابضین کے لئے احترام کا مظاہرہ توحید پرست طاقت کے ساتھ یک جہتی کااشارہ تھا تو بلا شبہ اسلام نے یروشلم میں ایک طویل دور کا آغاز بہت اچھے انداز میں کیا تھا۔"([47])
اس کے برخلاف 15 جولائی 1099ء میں جب
عیسائیوں نے دوبارہ بیت المقدس فتح کیا اس صورتحال کو یہی مؤرخ کچھ یوں نقل کرتا
ہے:
"تین دن تک صلیبی مجاہدین نے یروشلم میں منظم انداز میں قتل عام کیا۔ تیس ہزار کے قریب شہری تہ تیغ ہوئے ۔ گیستا فرینکورم کا مصنف لکھتا ہے کہ انہوں نے نظر آنے والے ہر ترک اور مسلمان کا سرقلم کردیا۔ کسی مرد یا عورت کو نہ بخشا گیا۔ 10ہزار مسلمان مسجد ِ اقصی ٰ کی چھت پر پناہ لئے ہوئے تھے۔ ان کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ اسی طرح یہودیوں ان کے صلواۃ میں گھیر کر موت کی وادی میں اتاردیا گیا۔ ۔۔۔۔ گلیاں خون سے لتھڑی ہوئی تھیں۔ ہر جگہ سروں، ہاتھوں اور اعضائے جسمانی کے ڈھیردکھائی دے رہے تھے۔ ۔۔۔۔پانچ مہینے بعد بھی شہر کے گرد انسانی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔۔۔۔صلیبی لشکریوں نے انسانوں سے بھرے شہر کو راتوں رات ایک بدبودار مردہ خانہ میں تبدیل کردیاتھا۔"([48])
12اکتوبر 1187ء کو تقریبا 88 سال بعد جب
دوبارہ صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کیا ،اس واقعے کو اسی مؤرخ کے الفاظ
میں نقل کرتاہوں۔
"12اکتوبر 1187ء کوسلطان صلاح الدین اور اس کے سپاہی یروشلم میں داخل ہوئے۔ اسی روز ان کے پیغمبرﷺ کے معراج کی سالانہ تقریب تھی۔ کسی ایک عیسائی کو قتل نہ کیا گیا۔ جاگیردار اور رؤسا نے آسانی سے زرتاوان ادا کردیا لیکن غریب لوگ ایسا نہ کرسکے وہ جنگی قیدی بنالئے گئے۔ لیکن جنگی قیدیوں کو گرفتار کرتے وقت ان کے عزیزوں کی گریہ زاری نے سلطان کو آبدیدہ کردیا۔ قیدیوں کی اکشریت کو آزاد کردیا گیا۔ سلطان کا بھائی العادل اس قدر ملول ہوا کہ اس نے "ذاتی خدمت کے لئے " ایک ہزار قیدی مانگ لئے اور پھر انہیں موقع پر رہا کردیا۔تمام مسلمان اس بات پر چیں بجبیں ہورہے تھے کہ امیر اور صاحب ثروت عیسائی اپنی دولت سمیت شہر سے جارہے ہیں ۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ دولت مند عیسائی اپنے غریب بھائیوں کا زرِتاوان ادا کرکے انہیں آزاد کرالیں۔ جب مسلمان مؤرخ عماد الدین نے اسقف اعظم ہرقل کو اپنے خزانوں سے لدے چھکڑوں کے ساتھ شہر سے نکلتے دیکھاتو سلطان سے کہا۔۔"بقیہ قیدیوں کو رہا کرنے کے لئے اس کی دولت ضبط کرلی جائے۔ " لیکن سلطان نے انکار کردیا۔ " وعدوں اور معاہدوں پر حرف بحرف عمل درآمد ہونا چاہئے۔" عیسائی جہاں کہیں بھی جائیں گے ہماری مہربانی کو یاد رکھیں گے۔ " سلطان نے بالکل درست کہاتھا۔ مغرب کے عیسائی یہ سن کر پریشان ہوجاتے تھے کہ مسلمانوں نے جس طرز ِعمل کا مظاہرہ کیا وہ یروشلم پر صلیبیوں کے قبضہ کے وقت کئے جانے والے سلوک سے مختلف اور کہیں زیادہ "مسیحی " تھا۔ انہوں نے ایسی کہانیاں تراش لیں جو "صلاح الدین " کو اخلاقا عیسائی ثابت کرتی تھیں۔ ان میں سے کچھ کہانیوں میں دعوی کیاگیا تھا کہ سلطان نے خفیہ طور پر بپتسمہ لے لیاتھا۔"([49])
ا
ٓپ قسطنطنیہ سے لیکر دہلی کی فتح تک کی مسلمانوں کی تاریخ پڑھیں ،مسلمانوں کی ہزار
ہزار سال تک کی حکومت کی تاریخ کامطالعہ کریں ۔ آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے اپنے
علاقوں میں بسنے والے غیرمسلم کوبھی کبھی مظلوم نہیں بننے دیا۔
معاشی محرکات کا حل سیرت النبی میں :۔
آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کےمعاشی اصول کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے بہترین گر ہیں ۔آپ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی۔ آپ کے مدینہ آمد کے
وقت ریاست مدینہ کا نہ تو کوئی خزانہ تھا اور نہ ہی معیشت ۔ اوس اور خزرج یہودی سود خوروں کے قرض
دار تھے ۔ منافقین اسلام کے بھیس میں اور دیگر قبائل علی الاعلان دشمن تھے۔[50]
آپ کے اصولوں کے نتیجے میں صرف
دس سال کے عرصے میں مدینہ کے اکثر شہری جائیدادوں کے مالک ہوچکے ہیں۔ حضرت ابوبکر
اور عمر کے دورتک اکثر آبادی اہل ثروت بن چکے ہیں۔ لوگوں کے گھروں میں مال ڈھیریوں
کی شکل میں لگا ہوتا تھا۔ حتی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں زکوۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔[51]
سیرت النبی میں
معاشی راہنمائی کے دو جزو ہیں ایک فرد کے
لئے اور دوسرا حکومت کے لئے :
فرد اور عمومی معاشرے
کےلئے سیرت النبی سے راہنمائی:۔
کماکرکھائیں :۔
آپ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے باوجود ایک فلاحی ریاست قائم کرنے کے اور باوجود اس کے کہ
لوگوں کے لئے وظیفے اور ضروریات ِ زندگی مہیاکئے جاتے تھے ۔ کماکر کھانے کا ماحول قائم فرمایا ۔ اور مانگنے
کی انتہائی شدید انداز میں مذمت فرمائی۔ ایک فقیر کی جمع پونجی بیچ کرکلہاڑی لے
کردینے کا واقعہ مشہور ہے۔آپ نے صحابہ کو یقین دلایا کہ سب سے بہتر کھانا وہ ہے
جو خود کماکر کھائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کے الفاظ درجِ ذیل ہیں۔
«مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ»[52]
میانہ روی:۔
آپ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی وہ تعلیم جو کہ علم معیشت کی بنیاد ہےمیانہ روی والی کبھی
محتاج نہیں ہوتا۔ اور میانہ روی آدھی معیشت ہے۔
خرچ کا اصول:۔
اسراف اور تبذیر
سے پرہیزکریں۔ قناعت اختیار کریں۔ سخاوت
اختیار کریں۔
«مَا أَنْفَقْتَ عَلَى نَفْسِكَ، أَوْ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ فِي غَيْرِ سَرَفٍ، وَلَا تَبْذِيرٍ فَلَكَ[55]
ہوائی نفع سے بچیں۔
سیرت مصطفی
ﷺ نے انسانوں کو ہرطرح کے ہوائی نفعوں اور چھکوں سے منع فرمایا ہے کیونکہ
فضائی چھکے انسان میں محنت کی عادت ختم کردیتی ہے۔اور سستی میں مبتلا کردیتی ہے۔اسلام کی تعلیم میں سود
لینا دینا ممنوع ہے۔[56]نیز جوا کھیلنا حرام ہے۔[57]
حکومت کے لئے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راہنمائی:۔
عوام کی معاشی اصلاح کے لئے جہاں ہر فرد کو
محنت کی طرف راغب کیا گیا ہے وہیں حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی ضروریات
کا خیال رکھے اور ان کی تربیت کی کوشش کرے ۔ ملک میں معاشی حالات درست رکھنے کے
لئے عوام کی فلاح وبہبود پر مشتمل
پالیسیاں بنائے۔ دوسری طرف حکومت کو اپنے مصارف کے لئے آمدن کی بھی ضرورت
ہے ۔ شریعت ِ مطہرہ میں اس کے طریقہ کار کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔
حکومت کی آمدن کے اسباب تعلیمات ِ نبوی میں :
عشر:زمین کی پیداوار سے
حاصل ہونے والی آمدن پر نہری یا بارانی کے مطابق دسواں یا بیسواں حصہ جو حکومت
جمع کرتی ہے۔
زکوٰۃ:صاحب نصاب سے مال کا چالیسواں حصہ ،
اسی طرح سائمہ جانوروں کی مخصوص تعداد پر مخصوص زکوۃ یہ بھی ریاست مدینہ کا عامل
جمع کرتا۔
صدقۂ فطر :
ایک مخصوص مقدار جو عیدالفطر سے پہلے وصول کیا جاتا تھا۔
خمس:مال غیمت میں سے ریاست کاحق جو امام اپنی مرضی کے مصارف میں خرچ کرسکتا ہے۔
مال فئ: جو کفار کا مال بغیر جنگ کے
مسلمانوں کے ہاتھ لگے تو وہ حکومت کی ملک شمار ہوتا تھا۔
جزیہ /ٹیکس: یہ مسلم ریاست میں رہنے والے
نامسلموں سے لیا جانے والا ٹیکس تھا جس کے بدلے میں انہیں حفاظت فراہم کی جاتی۔
خراج : غیرمسلموں سے زمین کی پیدوار پر جو
ٹیکس لیا جاتا وہ عشر کی جگہ خراج کہلاتا تھا۔ یہ بھی ریاست کو ملتا تھا۔
لاوارث مال: اگر کوئی مال بغیر وارث کے رہ
جائے تو وہ بھی بیت المال میں جمع ہوجاتا۔
رائلٹی :کانوں وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدن
میں سے پانچواں حصہ بیت المال میں جمع ہوتا۔
محصول درآمد:دارالاسلام کی سرحد میں داخلے پر درآمدی ٹیکس وصول کیا جاتا
ابتداء میں یہ صرف مستامنوں سے وصول کیا جاتا تھا پھر اس کا دائرہ بڑھا کر ذمی اور
مسلمانوں تک پہنچادیا گیا ۔ مگر سب کی مقدار الگ ہوتی تھی۔[58]
حکومت کے مصارف
حکومت کے مصارف دو طرح کے تھے۔
منصوص یہ وہ مصارف زکوۃ ہیں جو قرآن میں
مذکور ہیں ۔زکوۃ، صدقہ فطر اور عشر کی مد سے آنے والی رقم انہی مدوں میں خرچ کی جاسکتی تھی۔ ان میں فقراء، مساکین
،زکوۃ کے عاملین ، مولفۃ القلوب ، غلام، مقروض ، اللہ کے راستے کے مجاہداور
مسافروں میں تقسیم کی جاتی۔
غیر منصوص : باقی تمام اقسام کی آمدن امیر
کی مرضی سے ہر طرح کی ویلفیئر اور ضرورت میں خرچ کی جاتی تھی۔
ان مصارف میں حکومتی مشینری کی تنخواہیں ،
عوام کی تعلیم وتربیت ، سہولیات ، وظائف وغیرہ میں خرچ کیا جاتا۔[59]
ایمرجنسی حالات میں حکومت کے خصوصی اختیارات
سب لوگوں کا مال جمع کرکےرکھ لینااورضرورت کے بقدر دینا:
معاشی
مشکل حالات میں حکومت کے پاس کچھ مخصوص اختیارات بھی میسر
ہوتے ہیں ۔ جن میں سے ایک یہ ہے حکومت سب لوگوں کے پاس موجود سامان لیکر جمع کرلے
اور بوقت ضرورت بقد ر برابر سرابر مہیا کرے ۔ اس کی پہلی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی مصرمیں انتظامی تدبیر
ہے جو کہ قرآن پاک میں سورۂ یوسف میں مذکور ہے۔ اسی کی ایک مثال حضرت ابو عبیدہ کی ہے جو انہوں نے غزوۃ العنبر میں کیا ۔ کہ سب کے توشوں کا سامان
جمع کرکے ہر ایک کو برابر ایک کھجور دینا شروع کردی ۔ آج کے دور میں بھی کسی مشکل
معاشی صورتحال کے وقت حکومت اس طرح کا قدم اٹھاسکتی ہے۔ خاص کر جب کسی چیز کو بلیک
کرنے سے عمومی نقصان ہورہا ہو ۔
حجر
اگرکوئی شخص مال فضول ضائع کرتا ہو تو حکومت اسے خرچ کرنے
سے روکنے کا بھی اختیار رکھتی ہے۔
جھگڑوں کا تصفیہ کرنا ،بددیانتی بند کروانا اور معاہدوں کا نفاذ کروانا:
اسی طرح ریاست مدینہ میں عدل وانصاف اور قاضیوں کی ایک ذمہ داری مارکیٹ میں ہونے
والے معاہدوں کو پورا کروانابددیانتی ختم کرانا اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنا تھا
۔حضرت عمررضی اللہ عنہ خود بازار کا جائزہ لیتے تھے ، اور کسی طرح کی کمی بیشی پر
فوری فیصلہ کرتے تھے۔اسی طرح لوگ فیصلہ
کروانے کے لئے امیرالمومنین یا قاضیٔ وقت کے پاس حاضرہوتے اور ان کو فوری انصاف
مہیا ہوجاتا تھا۔[60]
ارتکاز ِ دولت کے خلاف بند باندھنا۔
سورہ حشر میں کسی ایک فریق کی اجارہ داری قائم ہونے کو غلط
قرار دیاگیا ہے۔[61]
مساوات
آپ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی اور خلفاء راشدین کے نظام کی ایک اور خصوصیت سب کے ساتھ برابری
کا سلوک ہے۔ ریاست مدینہ میں طبقاتی
نظام نہیں ۔ حتی
کہ غلام بھی مالک جیسا کھاتے اور پہنتے ہیں۔حتیٰ کہ سواری میں بھی برابری حاصل ہے۔ نہ
تو امیر غریب کا فرق ہے، نہ غلام اور آزاد کا فرق ہے، نہ کالے گورے کافرق ہے۔ نہ
عربی عجمی کا فرق ہے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت ابوہریر ۃ میں نہ خباب اور عمر میں نہ حضرت بلال
اور حضرت دحیہ میں اور نہ صہیب رومی اور
ابوبکر میں کو ئی فرق نہیں تھا۔ سورۂ حجرات میں اس طرف اشارہ ہے اور خطبہ حجۃ
الوداع اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا برتاؤ اس کی صراحت ہے ۔ اس سے بھی بڑھ
کریہ کہا جاسکتا ہے کہ امیر اور رعایا میں بھی فرق نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متبعین کے ساتھ ایسے تشریف رکھتے کے باہر
سے آنے والا آپ کو پہچان نہ پاتا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا وظیفہ عام مہاجری جتنا مقرر کیا۔[62]
سیدالقوم خادمھم
ریاست مدینہ میں
امیر خود عوام کے مسائل معلوم کرنے اور ان کے حل کی کوشش کرتا تھا۔ امیر عوام سے زیادہ مشقت اور
مشکلات کو جھیلتا تھا۔ حضور سب سے زیادہ
فاقہ کاٹتے ۔ حضرت ابوبکر نے خلفاء کی
تنخواہ عام مہاجری جتنی مقرر کی ۔ حضرت عمرکا رنگ مشقت کی وجہ سے بدل گیا ۔ خود
محتاجوں کے پاس راشن اپنی کمر پر اٹھاکر لے جاتے۔[63]
کردار سازی
ریاست مدینہ کی
ایک خاص صفت کردار سازی تھی جس کی وجہ سے ایک جاہل گنوار قوم ،نہ صرف یہ کہ خود
تہذیب یافتہ ، اور تعلیم یافتہ بن گئی بلکہ دوسروں کی کردار سازی کرنے میں لگ گئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میرے والد مجھے کہتے تھے کہ اے عمر تجھے
اونٹ چرانے بھی نہیں آتے۔ [64]
ایثار
صحابہ کرام کی ریاست مدینہ میں جوتربیت ہوئی تھی اس کا
ایک خاص پہلو ان میں دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کی عادت تھی۔جو لوگ پہلے
دوسروں کے خون کے پیاسے تھے وہ دوسرے کو پانی پلانے کے لئے خود پیاسے شہید ہوجانے
کو ترجیح دیتے تھے۔ مہمان کو کھلاتے خود بھوکے رہتے تھے۔ [65]
سادگی
ریاست مدینہ کے
من جملہ اوصاف میں سے ایک سادگی بھی ہے۔جہاں ایک طرف اتنی محبت ہے کہ ہر ایک حضور
پر جان دیتا ہے وہیں شادی کا بتانا بھی
ضروری نہیں سمجھتے۔ امیرالمومنین کے پاس لباس کے لئے صرف دو چادریں ہیں۔ دنیا کا
سامان بہت زیادہ جمع کرنے کی فکر ہی نہیں ہے۔ [66]
قانونی محرکات کاحل سیرت النبی میں :
انصاف اور اسلام :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل و انصاف کا نظام قائم
کیا جو سب کے لیے یکساں تھا۔ سیرتِ
طیبہ میں عدل وانصاف کو اسلام کا سب سے
بنیادی اصول قرار دیاگیا ہے۔ حتیٰ کہ بہت سے مسلم اسکالرز کے مطابق اگر
اسلام کی ایک لفظ میں تعریف کا مطالبہ کیا جائے تو اسلام کی تشریح کا وہ اکلوتا لفظ عدل ہوگا۔ جیساکہ
تفسیر کشاف میں ہے۔ "أن
الإسلام هو العدل"[67]۔ عربی زبان میں لفظ عدل ، ظلم کی ضد کے طور پر
مستعمل ہے ۔ جیسا کہ مقاییس اللغہ میں ہے: "عدل ظلم کی ضد ہے[68] اور کسی چیز کو صرف اس کی جگہ سے ہٹادینا بھی
عربی میں ظلم سمجھا جاتا ہے [69]۔[70]تو اگر ظلم اور عدل کے متضاد معنیٰ کو سامنے رکھیں تو عدل کا مطلب ہر
چیز کو اس کی اصل جگہ پر رکھنا بنتاہے۔
اسی لئے اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد الگ الگ مذکورہیں۔ معاملات اور
معاشرت کی الگ الگ تربیت ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں کے لئے الگ جگہ ہے۔
معارف القرآن
میں مفتی شفیع
عثمانی صاحب نے
ابن العربی کے
حوالے سے نقل
کیا ہے کہ
عدل کے اصلی
معنی برابری کے
ہیں مگر موقع
کے لحا ظ
سے اس کے
معنی میں کچھ
تبدیلی بھی واقع
ہوتی ہے مثلااللہ
تعالی کی نسبت
سے اس کے
معنی اللہ کے
حکم کو اپنی
خواہش پر مقدم
کرنا۔ اپنے نفس
کے لحاظ سے اس کے
معنی اپنے آپ
کو ضرر سے
بچانااور مخلوق خدا کی نسبت
سے اس کے
معنی ہمدردی اور
خیرخواہی ہے۔اور ایذاء
رسانی سے پرہیز
ہے۔ اور فیصلے
میں کسی طرف
داری کے بغیر
کھرا انصاف ہے۔[71]
اسلامی نظامِ قانون:
اسلامی
نظامِ عدل میں
قانون اللہ تعالیٰ
کی طرف سے طے شدہ
ہے جو کہ
کتاب اللہ اور
سنت ِرسول کے
ذریعے متعین ہوتاہے۔
﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ﴾ [72]
قاضی:
اسلامی
نظام عدل میں
قاضی بنیادی ستون
ہے۔ قاضی مقرر
کرنے کے لئے
طے کردہ شرائط
میں قاضی کے
علم، فہم اور
کردار تینوں کو
بڑی اہمیت حاصل
ہے۔ قرآن ِ کریم کا
ارشاد ہے:
﴿أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [73]
حضرت عمر رضی
اللہ تعالیٰ عنہ نے قاضی اور حاکم میں چار صفات مطلوبہ بیان کی ہیں: نرم ہو مگر
کمزور نہ ہو۔ سخت ہو مگر ضدی نہ ہو۔ سنبھالنے والا ہو مگر کنجوس نہ ہو اور سخی ہو
مگر اسراف کرنے والا نہ ہو۔ اور یہ چاروں صفات بیک وقت ہونی چاہئیں اگر ان میں سے
کسی ایک میں بھی کمی ہوتو وہ شخص اہل نہیں ہوگا۔الفاظ پیش ِخدمت ہیں۔
«قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " لَا يَنْبَغِي أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ - يَعْنِي أَمْرَ النَّاسِ - إِلَّا رَجُلٌ فِيهِ أَرْبَعُ خِلَالٍ: اللِّينُ فِي غَيْرِ ضَعْفٍ، وَالشِّدَّةُ فِي غَيْرِ عُنْفٍ، وَالْإِمْسَاكُ فِي غَيْرِ بُخْلٍ، وَالسَّمَاحَةُ فِي غَيْرِ سَرَفٍ، فَإِنْ سَقَطَتْ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ فَسَدَتِ الثَّلَاثُ "»[74]
اسی طرح
حدیث مبارکہ میں
حضرت ِمعاذکو یمن
کاحاکم بناکے بھیجتے
وقت کے انٹرویو
میں ان کی
فہم کا جائزہ
لیا گیا کیونکہ
ان کے علم
اور کردار کی
عمدگی پہلے سے
معلوم تھی۔قاضی کی
ذمہ داری ہے
کہ وہ مدعی
اور مدعی علیہ
کو اپنا مؤقف
واضح کرنے کا
پورا موقع دے۔
اقراریاگواہی اورشواہد:
اسلامی
قانون میں کوئی بھی
فیصلہ کرنے کے
لئےضروری ہے کہ
یا تو مدعی
علیہ اقرار کرے
اور یا مدعی گواہ
پیش کرے، جدید
دور میں یہ
ممکن ہے کہ
قطعی الثبوت شواہد
پیش کرےجیسے یقینی
ویڈیووغیرہ ۔مگر کوئی بھی
فیصلہ صرف مفروضوں ،
گمان یا شک
کی بنیاد پر
نہیں کیا جاسکتا۔
قانون کے اصول:۔
۱۔خدا خوفی:۔
سب سے پہلا اصول انصاف کے لئے اللہ تعالیٰ کا ڈر یا خدا خوفی ہے۔
۲۔ عاقبت اندیشی:
آپ
ﷺ کی تعلیمات میں زمینی قانون سے ڈرانے سے پہلے اخروی حساب سے ڈرایا جاتا ہے۔ جس
میں ایک ایسے مالک ، بادشاہ اور آقا کے سامنے حاضر ہونا ہے جو ہمارے ظاہر اور
چھپے سب سے واقف ہے۔ آخرت کی سزا بہت
زیادہ سخت ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی سزا عارضی اور آخرت کی بڑی سزا سے چھٹکارا
ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سنہری ادوار میں مجرم خود عدالت کے سامنے پیش ہوکر اور اپنے گناہ کا اقرار کرکے اپنی سزا
حاصل کرتا تھا۔ بخاری شریف
میں ہے۔
«الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».[77]
۳۔ جرم ثابت کرنے میں انتہائی احتیاط:
اسلام
میں جرم ثابت کرنے میں انتہائی احتیاط کو ملحوظ رکھا گیا۔ اسلام میں جرم ثابت ہونے
کے لئے ضروری ہے کہ یا تو گواہ دستیاب ہوں اور یا ملزم اقرار کرے۔ آج کےجدید دور
میں حاصل ہونے والے وہ ثبوت جو یقین مہیا
کریں انہیں بھی گواہی میں داخل کیا جاسکتاہے۔البتہ ایسے ثبوت کم از کم اتنے ہوں جو
کہ مطلوبہ گواہی کی تعداد کو پہنچیں۔
﴿فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ (13﴾[78]
۴۔ بغیر دلیل اور ثبوت کے کسی کو مجرم قرار دینا جرم ہے:
اگر کسی شخص پر جرم ثابت نہیں ہوا یا گواہی کا عدد پورا نہیں ہوسکا تو وہ ملزم
بھی نہیں کہلائے گا ۔ اور اگر کوئی شخص بغیر ثبوتوں کے کسی پر کوئی الزام لگائے تو
اسے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اسے تہمت کی سزا دی جاتی ہے۔
﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾ [79]
۵۔بے رحم اور بے مروت انصاف:
اسلام کا نظامِ عدل مظلوم کوتحفظ دینے کو مقدم
رکھتا ہے۔ اس لئے اسلامی نظامِ عدل بالکل بے رحم اور بے مروت ہے۔ اور جرم ثابت ہونے کے بعد سزا نافذ
کرنے میں انتہائی بے رحم ہے۔ نہ کسی کی غریبی کا لحاظ نہ یتیمی کا اور نہ ہی کسی
مالدار اور صاحب وقار کا لحاظ ۔ سب کے لئے بے رحم انصاف ہے۔اور بے مروت اتنا ہے کہ
نہ دوستی رشتے داری کا لحاظ ہوگا اور نہ ہی
دشمنی کا۔ انصاف اپنے کے خلاف بھی کرنا ہے اور یہی انصاف دشمن کے حق میں بھی فیصلہ
دلوا تا ہے۔
﴿وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ
تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾[80]
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ
لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ
يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا
الْهَوَى﴾ [81]﴿يَاأَيُّهَا
الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70﴾[82]
۷۔ مفت اور فوری انصاف:
آپ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلفاء اور آپ
کی تعلیمات میں ریاست کی سب سے پہلی ترجیح مفت
اور فوری انصاف مہیاکرنا رہی ۔عمومی طور پر ایک ہی مجلس میں فیصلہ سنا دیا
جاتا، جس پر فوری عمل بھی کیاجاتا تھا۔ ہر
علاقے میں عمومی طور پر گورنر اہل علم مقرر ہوتے اور وہی انتظامی معاملات کے ساتھ
عدالتی معاملات کو بھی حل فرماتے۔ علیحدہ سے قاضی
بھی مقرر کیا جاتے مگر عمومی طور پر وہ حدود وقصاص کے معاملات کونہیں
دیکھتے تھے ۔[83]
۸۔کھرا انصاف
ریاست مدینہ کے
نظام انصاف میں سفاکانہ حد تک کھرا
انصاف نافذ کیا گیا جس میں نہ تو اقربا
پروری کا شائبہ تھا ، نہ کسی رتبے والے کا لحاظ نہ تھا اور نہ ہی کسی دشمن سے
عداوت ۔ اسکی وجہ قرآن پاک میں سورہ نساء اور سورۂ مائدہ میں بے لاگ انصاف کے ساتھ کھڑے ہونےکا ارشاد ہے کہ
خواہ فیصلہ اپنی ذات کے خلاف ہے یا والدین
کے خلاف یا خو اہ دشمن کے مفاد میں ہی کیوں نہ
ہو۔اسی طرح عہد نبوی اور خلفاء میں ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں جن میں
فیصلہ مسلمان کے خلاف اور یہودی کے حق میں آیا۔ حتی کہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ
کے زمانۂ خلافت میں قاضی شریح نے یہودی کے حق میں اور حضرت علی جو کہ اس وقت
امیرالمومنین تھے کے خلاف دیا۔ ([84]) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فاطمہ مخزومیہ کے خلاف حد کے وقت کا جملہ مشہور ہے کہ اگر فاطمہ مخزومیہ کی جگہ فاطمہ
بنت محمد[85] بھی ہوتی تو بھی سز ا نافذ ہوتی۔[86] اسلامی نظام ِ عدل میں پیسے کمانے کے لئے کوئی مجرم
کو بچانے کی کوشش نہیں کرسکتااور مجرم کو بچانے
کے لئے حیلے کرنے والے اور باتیں گھمانے والا بھی مجرم شمار ہوگا۔
۹۔سخت سزا دینا۔
اسلام
کے نظامِ عدل
کا مقصد اور
منشا معاشرے میں
امن کا قیام
اور مظلوم کا
ساتھ دینا ہے۔
اسی لئے اسلام
ظالم کے لئے
بہت سخت بلکہ
عبرتناک سزائیں تجویز
کرتا ہے۔ مزید
برآن ان سزاؤں
کو مجمعِ عام کے سامنے
دینے کا حکم
دیتا ہے تاکہ
لوگ عبرت پکڑیں
اور معاشرے میں
امن قائم ہوسکے۔
﴿وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾[87]
﴿نَكَالًا مِنَ اللَّهِ ﴾[88]
۱۰۔ قصاص:
اسلامی نظام ِ
عدل مظلوم کو
موقع دیتا ہے
کہ وہ اپنے
پر کئے جانے
والے ظلم کا
بدلہ لے سکے ۔ یہ
قصاص دانت توڑنے
سے لیکر جان
لینے تک کا
بدلہ دلواتا ہے۔ اسلامی نظام ِ عدل ایک طرف مظلوم کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے اس کے دل کو تسکین
پہنچاتا ہے وہیں دوسری طرف مجمع عام کے سامنے دی جانے والی سزا عبرت کے پہلو کو
اجاگر کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کو ظلم کرنے سے رکنے پرمجبور کرتا ہے۔ قرآن کے الفاظ
درجِ ذیل ہیں۔
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ﴾ [89]
۱۱شفافیت :
ریاست مدینہ کی ایک اور خصوصیت انصا ف اور تقسیم میں شفافیت
تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود غلط فہمی کو دور فرماتے تھے ۔ اعتکاف کے
دوران ام المومنین کے بارے میں حضور کی
وضاحت ایک مثال ہے ۔[90] ریاست مدینہ میں ہر شخص کو معلومات حاصل کرنے کی
آزادی تھی ۔ایک عام شہری حضرت عمر سے سرعام غنیمت کا کپڑا زیادہ ملنے کا پوچھ سکتا تھا۔[91]
نتائج بحث:۔
☜
۲۱ ستمبر کے عالمی
امن ڈے کے موقع پر گلوبل ورلڈ میں موجود
بدامنی اور نقضِ امن کے اسباب کوجاننے اور ان کا حل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی
میں تلاش کرنے کی جستجو میں کی جانے والی اس تحقیق میں درجِ ذیل نتائج ہمارے سامنے
آتے ہیں۔
☜
بنیادی طور
پراصطلاح ِ امن ہی مشرق اور مغرب یا
اسلامی اور سیکولر تہذیبوں میں مختلف معنی
رکھتا ہے۔ مغربی اور سیکولر اصطلاح کے مطابق امن کے معنیٰ خاموش کروا دینا ہے۔
مظلوم کو حقیقی انصاف فراہم کرنا مغربی اصطلاح امن سے مقصود ہی نہیں ہے۔ لہذا
چونکہ صاحب وسائل اور اختیار کی طرف سے ہی شور کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے مغربی نظامِ
امن کی بنیاد ہی ظالم کا ساتھ دینے پر
ہے۔ جبکہ مشرقی یا اسلامی امن کا نقطہ ٔ نظر چونکہ انصاف قائم کرنا اور حقیقی امن
قائم کرنا ہے۔ اسی لئے اسلامی نظامِ عدل میں عبرتناک سزائیں علی الاعلان دی جاتی ہیں۔ اسی لئے آج
بھی جن ممالک میں جس درجہ بھی اسلامی قانون نافذہے وہاں امن کی صورتحال ترقی یافتہ
ترین ممالک سے بھی بہت عمدہ اور بہترین ہے۔
☜
نقض امن کی سماجی
وجوہات انتہاپسندی ، عدمِ برداشت اور کم علمی ہے درحقیقت ان محرکات کا بھی
اصل محرک نظام ِ عدل کی کارکردگی کا درست
نہ ہونا ہے۔ان محرکات کے معاشرے پر اثرات
یہ ہوتے ہیں کہ معاشرہ اچھی صفات کی بجائے غلط صفات کی طرف راغب ہوتا ہےاور معاشرے
میں عصبیت اور تعصب پروان چڑھتی ہے اور بدمعاشی کا رجحان عام ہوتا ہے۔بہرحال سیرت
النبی میں ان مسائل کاحل تحمل ، بردباری
کی تربیت کے ساتھ ساتھ شعو ر، آگاہی اور
علم کو عام کرنا ہے۔
☜
نقض امن کا معاشی
محرک، غربت اور وسائل دولت کی غیرمنصفانہ
تقسیم ہے۔ غربت کے اسباب میں سستی
، بیروزگاری، جنگ اور تصادم ، گھر نہ ہونا، بیماری، وسائل کی کمی اور کرپشن وغیرہ داخل ہیں۔ اگرچہ
ان مسائل کی بنیادی وجہ بھی نظامِ انصاف کی کمزوری ہے مگر ان کاحل بھی سیرت
النبی میں ہمیں ملتا ہے۔ معاشی
محرکات کا اثر یہ پڑتا ہے کہ معیشت
تباہ ہوجاتی ہے۔ ان مسائل کا حل سیرت
النبی کی روشنی میں ہمیں یہ ملتا ہے کہ
ہنر سیکھیں اور ہاتھ سے کماکر کھائیں ۔ نیز کمائی کو میانہ روی سے خرچ کریں اور
چادر دیکھ کر پاؤں پساریں۔ اسراف اور تبذیر سے بچیں اور کسی بھی دھوکے ، جوئے
اورسود وغیرہ کے چکر میں نہ پڑیں۔معیثت کو درست کرنے کے لئے حکومت کو درست طریقہ
کار اختیار کرنے کی ضرورت بھی معلوم ہوتی ہے۔
یعنی حکومت کو چاہئیے کہ کیپٹل ازم اور سوشل ازم کی بجائے اسلامی نظام ِ
معیشت کو اپنائےاور وہ خود سادگی اور
ایثار کا راستہ اختیار کرے اور عوام کو سادگی اور ایثار کی تربیت دے نیزعوام
کی کردار سازی اور ہنر سکھانے کے لئے
اقدامات کرے۔ حکمران پروٹوکول کی بجائے عوامی خادم بن کر کام کریں۔ ارتکاز دولت
روکنے کے لئے اقدامات کریں اور ایسی پالیسیاں بنائیں کہ دولت اور وسائل صرف
چند خاندانوں میں نہ سمٹ کررہ جائیں۔
☜
قانونی محرکات جو کہ درحقیقت دنیا میں رائج بدامنی اور نا انصافی کی اصل وجہ ہیں وہ کامن لاء میں موجود ظالم کو نوازنے اور مظلوم کو نچوڑنے کی صفت
ہے۔ کامن لاء فوری انصاف کو ناممکن
بنادیتا ہے، ظالم کو وکیلوں کی خدمات پیش کرمظلوم ظاہر ہونے کے جواز اور طریقے
فراہم کرتا ہے۔ غریب آدمی کے لئے انصاف اتنا مہنگا ہے کہ وہ صرف پیس اور خاموشی
ہی اختیار کرسکتاہے۔ اور ظالم کو سخت سزا
سے تحفظ فراہم کرتاہے۔ قانونی محرکات کے اثرات میں سے یہ ہے ظالم کھلے عام دندناتے
پھرتے ہیں ۔ اور مظلوم چھپ کررہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں طاقتور ظالم
معیشت بھی سمیٹ کر چند ہاتھوں میں جمع کرلیتا ہے۔ اور معاشرہ ظالموں کو سردار
بنانے اور مزید ظلم سہنے پر مجبور ہوتا جاتا ہے۔ دنیا کو امن کے لئےتعلیمات شفیعِ
محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیرت ساقئ کوثر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راہنمائی حاصل کرتے
ہوئے اسلامی نظام ِ قانون کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کہ کھرا ، بے لاگ انصاف فراہم کرتا ہے۔ ظالم
کو عبرت کا نشان بناتا ہے جسے دیکھ کردوسرے ظالم باز آتا ہے اور دنیا میں امن
وامان عام ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں معاشرہ اور معاش دونوں خود بخود سدھرنے لگ جاتے ہیں۔
سفارشات:۔
آج ہمارے پاکستانی معاشرے میں خاص کربدامنی سے لوگ پریشان
ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو مسلم ملک ہونے
کے باوجود بدعملی کا بڑے پیمانے پر سامنا
ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اسلامی ملک کی بنیادی قدروں سے ہی محروم ہیں ۔ ہم امن
اور خوشحالی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے مستفید ہونے
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش کردہ معیشت ، معاشرت اور عدالت کو نافذ
کرنے کی ضرورت ہے۔
مصادر ومراجع
1.
القرآن
الکریم
2. أبو
عبيد, أبو عُبيد القاسم بن سلاّم بن عبد الله الهروي البغدادي. الأمثال - أبو
عبيد. الطبعة: الأولى،. دار المأمون للتراث, 1400.
3. إبن
حنبل, الإمام أحمد بن حنبل (١٦٤ - ٢٤١. مسند الإمام أحمد بن حنبل. ٥٠ (آخر
٥ فهارس) vols. بيروت: مؤسسة الرسالة, الطبعة: الأولى،
١٤٢١ هـ - ٢٠٠١ م.
4. ابن
راشد, معمر بن راشد الأزدي. الجامع [مطبوع آخر مصنف عبد الرزاق]. الطبعة:
الثانية، ١٤٠٣ هـ-١٩٨٣. Vol. عدد
الأجزاء: ٢ [الأجزاء ١٠، ١١ من المصنف لعبد الرزاق]. الناشر: المجلس العلمي-
الهند، توزيع المكتب الإسلامي - بيروت, n.d.
5. ابن
قاضي خان, علاء الدين علي بن حسام الدين ابن قاضي خان القادري الشاذلي الهندي
البرهانفوري ثم المدني فالمكي الشهير بالمتقي الهندي (ت ٩٧٥هـ). كنز العمال في
سنن الأقوال والأفعال. بيروت - لبنان: مؤسسة الرسالة, n.d.
6. ابن
قيم, محمد بن أبي بكر بن أيوب بن سعد شمس الدين ابن قيم الجوزية. إعلام
الموقعين عن رب العالمين. الطبعة: الأولى، ١٤١١هـ-١٩٩١م. دار الكتب العلمية - ييروت, n.d.
7.
“ادارہ فروغ قومی زبان :: قومی انگریزی اُردو ڈکشنری ایپ.” Accessed September 11, 2024.
https://nlpd.gov.pk/apps/englishurdudictionary/search.php.
8.
“ادارہ فروغ قومی زبان :: قومی انگریزی اُردو ڈکشنری ایپ.” Accessed September 11, 2024.
https://nlpd.gov.pk/apps/englishurdudictionary/search.php.
9. البخاري,
أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي. صحيح البخاري. الطبعة:
الخامسة. ٧ (الأخير فهارس) vols. دمشق: دار ابن كثير،
دار اليمامة), ، ١٤١٤ هـ - ١٩٩٣ م.
10. البَلَاذُري,
: أحمد بن يحيى بن جابر بن داود. فتوح البلدان. دار ومكتبة الهلال- بيروت,
١٩٨٨ م.
11. البيهقي,
أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي (٣٨٤ - ٤٥٨ هـ). شعب الإيمان. الطبعة: الأولى.
، بيروت- لبنان: دار الكتب العلمية, ١٤٢١ هـ - ٢٠٠٠ م.
12. الرازي,
أحمد بن فارس بن زكرياء القزويني الرازي، أبو الحسين (ت ٣٩٥هـ). معجم مقاييس
اللغة. ٦ vols. دار الفكر, ١٣٩٩هـ - ١٩٧٩م.
13. الزمخشري,
محمود بن عمر بن أحمد. تفسير الكشاف. القاهرة: دار الريان للتراث بالقاهرة, n.d.
14. السندي,
محمد عابد, ed. مسند الشافعي. ببيروت: دار الكتب
العلمية, 1400.
15. الصنعاني,
أبو بكر عبد الرزاق بن همام الصنعاني. المصنف. الطبعة: الثانية. ١٠ vols. مركز
البحوث وتقنية المعلومات - دار التأصيل, ١٤٣٧ هـ - ٢٠١٣ م.
16. الكاندهلوي,
محمد يوسف بن محمد إلياس بن محمد إسماعيل. حياة الصحابة. الطبعة: الأولى،
١٤٢٠ هـ-١٩٩٩ م. ٥ vols. بيروت - لبنان: مؤسسة
الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع،, n.d.
17. النسائي,
أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي بن سنان بن بحر بن دينار الخراساني. سنن النسائي.
الطبعة: الأولى، ١٣٤٨ هـ-١٩٣٠ م. : المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة, n.d.
18. النيسابوري,
أبو الحسين مسلم بن الحجاج القشيري (٢٠٦ - ٢٦١ ه. صحيح مسلم. ٥ (متسلسلة
الترقيم) (الأخير فهارس) vols. ببيروت: دار إحياء
التراث العربي, ١٣٧٤ هـ - ١٩٥٥ م.
19. الهيثمي,
أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي (ت ٨٠٧هـ). موارد الظمآن
إلى زوائد ابن حبان. دار الكتب العلمية, n.d.
20. عثمان,
محمد رأفت. النظام القضائي في الفقه الإسلامي. الطبعة: الثانية ١٤١٥هـ١٩٩٤م. دار البيان, n.d.
21. عثمانی,
مفتی محمد شفیع. معارف القرآن. کراچی: ادارۃ المعارف, ۲۰۰۲.
22. مولوی,
فیروز الدین. فیروزاللغات. لاہور: فیروز سنز, n.d.
23. نعمانی,
علامہ شبلی, and علامہ سید سلیمان ندوی. سیرت النبی.
ستمبر 2002. Vol. 4. انارکلی۔ لاہور: ادارہ اسلامیات, n.d.
24.
یوسف, محمد یوسف الدین. اسلام کے
معاشی نظریے. کراچی: الائید بک کمپنی جامعہ کراچی, مئی۸۴ ء
25. Armstrong,
Karen. Jerusalem One City Three Faiths یروشلم ایک
شہر تین مذہب.
Translated by طاہر
منصور فاروقی. لاہور: تخلیقات, 2012.
26. Bilal, Dr. Muhammad, and Farqaleet Khokhar. “Justice Delayed or
Denied: The Myth of Justice in Pakistan.” Journal of Law & Social
Studies 3, no. 2 (December 31, 2021): 124–32.
https://doi.org/10.52279/jlss.03.02.124132.
27. “BREACH OF THE PEACE Definition and Meaning | Collins English
Dictionary.” Accessed September 11, 2024.
https://www.collinsdictionary.com/dictionary/english/breach-of-the-peace.
28. Brown, William BrownWilliam. “Poverty.” In A Concise Oxford
Dictionary of Politics and International Relations. Oxford University
Press, 2018.
https://www.oxfordreference.com/display/10.1093/acref/9780199670840.001.0001/acref-9780199670840-e-1716.
29. “Definition of BREACH OF THE PEACE.” Accessed September 11,
2024. https://www.merriam-webster.com/dictionary/breach+of+the+peace.
30. “Definition of PEACE,” August 30, 2024.
https://www.merriam-webster.com/dictionary/peace.
31. “Disturbing the Peace | Noise Pollution, Public Nuisance &
Disorderly Conduct | Britannica.” Accessed September 11, 2024.
https://www.britannica.com/topic/disturbing-the-peace.
32. “Economy,” September 11, 2024.
https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/economy.
33. “Education ‘an Engine for Poverty Eradication, Force for Peace’,
Says Secretary-General in Message Marking International Day | Meetings Coverage
and Press Releases.” Accessed September 14, 2024.
https://press.un.org/en/2019/sgsm19439.doc.htm.
34. “Extremism Noun - Definition, Pictures, Pronunciation and Usage
Notes | Oxford Advanced Learner’s Dictionary at
OxfordLearnersDictionaries.Com.” Accessed September 14, 2024.
https://www.oxfordlearnersdictionaries.com/definition/english/extremism.
35. InterAction. “The Top 9 Causes of Global Poverty.” Accessed
September 14, 2024.
https://www.interaction.org/blog/the-top-9-causes-of-global-poverty/.
36. “Intolerance Noun - Definition, Pictures, Pronunciation and
Usage Notes | Oxford Advanced Learner’s Dictionary at
OxfordLearnersDictionaries.Com.” Accessed September 14, 2024.
https://www.oxfordlearnersdictionaries.com/definition/english/intolerance.
37. Investopedia. “Economy.” Accessed September 14, 2024.
https://www.investopedia.com/economy-4689801.
38. Investopedia. “What Is Poverty? Meaning, Causes, and How To
Measure.” Accessed September 14, 2024.
https://www.investopedia.com/terms/p/poverty.asp.
39. LII / Legal Information Institute. “Disturbance of the Peace.”
Accessed September 11, 2024.
https://www.law.cornell.edu/wex/disturbance_of_the_peace.
40. “Poverty | Definition, Causes, Types, & Facts | Britannica,”
September 10, 2024. https://www.britannica.com/topic/poverty.
41. “Public Order Act 1936.” King’s Printer of Acts of Parliament.
Accessed September 11, 2024.
https://www.legislation.gov.uk/ukpga/Edw8and1Geo6/1/6/section/5/enacted.
42. Rekhta Dictionary. “نَقض اَمن لفظ کے معانی | naqz-e-amn - Urdu
meaning.” Accessed September 11, 2024. https://www.rekhtadictionary.com/meaning-of-naqz-e-amn?lang=ur.
43. “SOCIETY | English Meaning - Cambridge Dictionary.” Accessed
September 13, 2024.
https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/society.
44. “SOCIETY Definition & Meaning | Dictionary.Com.” Accessed
September 13, 2024. https://www.dictionary.com/browse/society.
45. “Uneducated Adjective - Definition, Pictures, Pronunciation and
Usage Notes | Oxford Advanced American Dictionary at
OxfordLearnersDictionaries.Com.” Accessed September 14, 2024.
https://www.oxfordlearnersdictionaries.com/definition/american_english/uneducated.
46. “Urdu Lughat.” Accessed September 11, 2024.
https://udb.gov.pk/result.php?search=%D8%A7%D9%85%D9%86+.
47. Vesilind, P. Aarne. Peace Engineering: When Personal Values
and Engineering Careers Converge. Lakeshore Press, 2014.
48. Vocabulary.com. “Peace - Definition, Meaning & Synonyms.”
Accessed September 11, 2024. https://www.vocabulary.com/dictionary/peace.
49. “What Are the Main Causes of Poverty?” Accessed September 14,
2024. https://www.compassion.com/poverty/what-causes-poverty.htm.
50. “WHAT IS PEACE? CONCEPTS, QUALITIES, AND SOCIAL CONTRACT.”
Accessed September 11, 2024. https://www.hawaii.edu/powerkills/TJP.CHAP2.HTM.
51. World Bank Blogs. “Inequality and Conflict—Some Good News.”
Accessed September 14, 2024. https://blogs.worldbank.org/en/dev4peace/inequality-and-conflict-some-good-news.
52. World Justice Project. “What Is the Rule of Law?” Accessed
September 14, 2024.
https://worldjusticeproject.org/about-us/overview/what-rule-law.
.
حواشی
[1] “Urdu Lughat,”
accessed September 11, 2024, https://udb.gov.pk/result.php?search=%D8%A7%D9%85%D9%86+.
[2] “ادارہ فروغ قومی زبان :: قومی انگریزی اُردو ڈکشنری ایپ,” accessed September 11, 2024, https://nlpd.gov.pk/apps/englishurdudictionary/search.php.
[3] “Definition of
PEACE,” August 30, 2024, https://www.merriam-webster.com/dictionary/peace.
[4] “WHAT IS PEACE?
CONCEPTS, QUALITIES, AND SOCIAL CONTRACT,” accessed September 11, 2024,
https://www.hawaii.edu/powerkills/TJP.CHAP2.HTM.
[5] P. Aarne
Vesilind, Peace Engineering: When Personal Values and Engineering Careers
Converge (Lakeshore Press, 2014).P: 43
[6] “Peace -
Definition, Meaning & Synonyms,” Vocabulary.com, accessed September 11,
2024, https://www.vocabulary.com/dictionary/peace.
[7] فیروز
الدین مولوی, فیروزاللغات
(لاہور:
فیروز سنز, n.d.).
[8] “نَقض اَمن لفظ
کے معانی | naqz-e-amn - Urdu meaning,” Rekhta
Dictionary, accessed September 11, 2024,
https://www.rekhtadictionary.com/meaning-of-naqz-e-amn?lang=ur.
[9] “ادارہ فروغ قومی زبان :: قومی انگریزی اُردو ڈکشنری ایپ,” accessed September 11, 2024,
https://nlpd.gov.pk/apps/englishurdudictionary/search.php.
[10] “BREACH OF THE
PEACE Definition and Meaning | Collins English Dictionary,” accessed September
11, 2024,
https://www.collinsdictionary.com/dictionary/english/breach-of-the-peace.
[11] “Definition of
BREACH OF THE PEACE,” accessed September 11, 2024,
https://www.merriam-webster.com/dictionary/breach+of+the+peace.
[12] “Public Order
Act 1936” (King’s Printer of Acts of Parliament), accessed September 11, 2024,
https://www.legislation.gov.uk/ukpga/Edw8and1Geo6/1/6/section/5/enacted.
[13] “Disturbance of
the Peace,” LII / Legal Information Institute, accessed September 11, 2024,
https://www.law.cornell.edu/wex/disturbance_of_the_peace.
[14] “Disturbing the
Peace | Noise Pollution, Public Nuisance & Disorderly Conduct |
Britannica,” accessed September 11, 2024,
https://www.britannica.com/topic/disturbing-the-peace.
[15] مولوی,
فیروزاللغات.
[16] “SOCIETY | English Meaning - Cambridge Dictionary,” accessed
September 13, 2024,
https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/society.
[17] “SOCIETY Definition & Meaning | Dictionary.Com,” accessed
September 13, 2024, https://www.dictionary.com/browse/society.
[18] “Extremism Noun - Definition, Pictures, Pronunciation and Usage
Notes | Oxford Advanced Learner’s Dictionary at
OxfordLearnersDictionaries.Com,” accessed September 14, 2024,
https://www.oxfordlearnersdictionaries.com/definition/english/extremism.
[19] “Intolerance Noun - Definition, Pictures, Pronunciation and
Usage Notes | Oxford Advanced Learner’s Dictionary at
OxfordLearnersDictionaries.Com,” accessed September 14, 2024,
https://www.oxfordlearnersdictionaries.com/definition/english/intolerance.
[20] “Uneducated Adjective - Definition, Pictures, Pronunciation and
Usage Notes | Oxford Advanced American Dictionary at
OxfordLearnersDictionaries.Com,” accessed September 14, 2024,
https://www.oxfordlearnersdictionaries.com/definition/american_english/uneducated.
[21] William
BrownWilliam Brown, “Poverty,” in A Concise Oxford Dictionary of Politics
and International Relations (Oxford University Press, 2018),
https://www.oxfordreference.com/display/10.1093/acref/9780199670840.001.0001/acref-9780199670840-e-1716.
[22] “Education ‘an Engine for Poverty Eradication, Force for Peace’,
Says Secretary-General in Message Marking International Day | Meetings Coverage
and Press Releases,” accessed September 14, 2024,
https://press.un.org/en/2019/sgsm19439.doc.htm.
[23] “Economy,” Investopedia, accessed September 14, 2024,
https://www.investopedia.com/economy-4689801.
[24] “Economy,” September 11, 2024,
https://dictionary.cambridge.org/dictionary/english/economy.
[25] “Poverty | Definition, Causes, Types, & Facts | Britannica,”
September 10, 2024, https://www.britannica.com/topic/poverty.
[26] “The Top 9 Causes of Global Poverty,” InterAction (blog),
accessed September 14, 2024,
https://www.interaction.org/blog/the-top-9-causes-of-global-poverty/.
[27] “What Is Poverty? Meaning, Causes, and How To Measure,”
Investopedia, accessed September 14, 2024,
https://www.investopedia.com/terms/p/poverty.asp.
[28] “What Are the Main Causes of Poverty?,” accessed September 14,
2024, https://www.compassion.com/poverty/what-causes-poverty.htm.
[29] “What Are the Main Causes of Poverty?”
[30] “The Top 9 Causes of Global Poverty.”
[31] “The Top 9 Causes of Global Poverty.”
[32] “What Are the Main Causes of Poverty?”
[33] “Inequality and Conflict—Some Good News,” World Bank Blogs,
accessed September 14, 2024,
https://blogs.worldbank.org/en/dev4peace/inequality-and-conflict-some-good-news.
[34] “What Is the Rule of Law?,” World Justice Project, accessed
September 14, 2024,
https://worldjusticeproject.org/about-us/overview/what-rule-law.
[35] Dr. Muhammad
Bilal and Farqaleet Khokhar, “Justice Delayed or Denied: The Myth of Justice in
Pakistan,” Journal of Law & Social Studies 3, no. 2 (December 31,
2021): 124–32, https://doi.org/10.52279/jlss.03.02.124132.
[36] [البقرة: 126]
[37] [البقرة: 125]
[38] [العنكبوت: 67]
[39] [قريش: 3-4]
[40] [الحجر: 46]
[41] [سبأ: 37]
[42] [فصلت: 40]
[43] [الدخان: 55]
[44] [النور: 55]
[45] [المائدة: 32] [البقرة:
179] [آل عمران: 154] [يوسف: 99] ]
[الأنعام: 81] [الأنعام: 82]
[النحل: 112] [سبأ: 18] [النحل:
45-47] [الشعراء: 146-152]
([46])
أبو
الحسين مسلم بن الحجاج القشيري (٢٠٦ - ٢٦١ ه النيسابوري, صحيح مسلم, ٥
(متسلسلة الترقيم) (الأخير فهارس)
vols. (ببيروت: دار إحياء التراث العربي, ١٣٧٤ هـ - ١٩٥٥ م). (1/
48 ت عبد الباقي)
([47]) Karen Armstrong, Jerusalem
One City Three Faiths یروشلم ایک شہر تین مذہب, trans. طاہر منصور فاروقی
(لاہور: تخلیقات,
2012).Page:364
[50] علامہ
شبلی نعمانی and علامہ سید
سلیمان ندوی, سیرت النبی, ستمبر 2002, vol. 4 (انارکلی۔ لاہور: ادارہ اسلامیات, n.d.).ملخصا
[51] محمد يوسف
بن محمد إلياس بن محمد إسماعيل الكاندهلوي, حياة الصحابة, الطبعة: الأولى،
١٤٢٠ هـ-١٩٩٩ م, ٥ vols. (بيروت -
لبنان: مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع،, n.d.).ملخصا
[52] أبو
عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي البخاري, صحيح البخاري, الطبعة:
الخامسة, ٧ (الأخير فهارس)
vols. (دمشق: دار ابن
كثير، دار اليمامة), ، ١٤١٤ هـ - ١٩٩٣ م). (2/ 730 ت البغا):
[53] أبو
بكر أحمد بن الحسين البيهقي (٣٨٤ - ٤٥٨ هـ) البيهقي, شعب الإيمان, الطبعة:
الأولى (، بيروت- لبنان: دار الكتب العلمية, ١٤٢١ هـ - ٢٠٠٠ م). (8/ 504 ط الرشد)
[54] الإمام
أحمد بن حنبل (١٦٤ - ٢٤١ إبن حنبل, مسند الإمام أحمد بن حنبل, ٥٠ (آخر ٥
فهارس) vols. (بيروت:
مؤسسة الرسالة, الطبعة: الأولى، ١٤٢١ هـ - ٢٠٠١ م). (7/ 302 ط الرسالة)
[55] معمر
بن راشد الأزدي ابن راشد, الجامع [مطبوع آخر مصنف عبد الرزاق], الطبعة:
الثانية، ١٤٠٣ هـ-١٩٨٣,
vol. عدد
الأجزاء: ٢ [الأجزاء ١٠، ١١ من المصنف لعبد الرزاق] (الناشر: المجلس العلمي- الهند، توزيع المكتب الإسلامي - بيروت, n.d.). (10/ 458):
[56] : أحمد بن
يحيى بن جابر بن داود البَلَاذُري, فتوح البلدان (دار ومكتبة الهلال-
بيروت, ١٩٨٨ م). «فتوح البلدان» (ص73):«فلما
استخلف عمر بن الخطاب رضي الله عنه أصابوا الربا وكثر فخافهم عَلَى الإِسْلام
فأجلاهم وكتب لهم»
[57] ﴿يَاأَيُّهَا
الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ
وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ
تُفْلِحُونَ﴾ [المائدة: 90]
[58] محمد یوسف
الدین یوسف, اسلام کے معاشی نظریے (کراچی: الائید بک کمپنی جامعہ کراچی,
مئی۸۴ ء). ج ۲ ص ۵۸۷ تا ۷۵۶ملخصا
[59] یوسف. ج ۲ ص ۵۸۷ تا ۷۵۶ملخصا
[60] محمد رأفت
عثمان, النظام القضائي في الفقه الإسلامي, الطبعة: الثانية ١٤١٥هـ١٩٩٤م (دار البيان,
n.d.).ملخصا
[61] ﴿كَيْ
لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ﴾ [الحشر: 7]
[62] الكاندهلوي,
حياة الصحابة.ملخصا
[63] الكاندهلوي.ملخصا
[64] نعمانی and ندوی, سیرت النبی.ملخصا
[65] الكاندهلوي,
حياة الصحابة.ملخصا
[66] الكاندهلوي.ملخصا
[67] محمود بن
عمر بن أحمد الزمخشري, تفسير الكشاف (القاهرة: دار الريان للتراث بالقاهرة, n.d.). (1/ 345)
[68] أحمد بن
فارس بن زكرياء القزويني الرازي، أبو الحسين (ت ٣٩٥هـ) الرازي, معجم مقاييس
اللغة, ٦ vols. (دار
الفكر, ١٣٩٩هـ - ١٩٧٩م.). (4/ 247)
[69] أبو عُبيد
القاسم بن سلاّم بن عبد الله الهروي البغدادي أبو عبيد, الأمثال - أبو عبيد,
الطبعة: الأولى، (دار المأمون للتراث, 1400). (ص259)
[70] محمد عابد
السندي, ed., مسند
الشافعي
(ببيروت: دار الكتب العلمية, 1400). (2/ 134)
[71] مفتی محمد
شفیع عثمانی, معارف القرآن
(کراچی: ادارۃ المعارف, ۲۰۰۲).ج: ۵
ص: ۳۸۹
[72] [المائدة: 49]
[73] [النساء: 58]
[74] أبو
بكر عبد الرزاق بن همام الصنعاني الصنعاني, المصنف, الطبعة: الثانية, ١٠ vols. (مركز البحوث وتقنية المعلومات - دار
التأصيل, ١٤٣٧ هـ - ٢٠١٣ م). (8/ 299 ت الأعظمي):
[75] [المائدة: 8]
[76] [النساء: 135]
[77] البخاري,
صحيح البخاري. (2/ 437 بترقيم الشاملة آليا)
[78] [النور:
13-14]
[79] [النور: 4]
[80] [النور:
2]
[81] [النساء: 135]
[82] [الأحزاب: 70-71]
[83] عثمان, النظام
القضائي في الفقه الإسلامي.ملخصا
([84])
علاء
الدين علي بن حسام الدين ابن قاضي خان القادري الشاذلي الهندي البرهانفوري ثم
المدني فالمكي الشهير بالمتقي الهندي (ت ٩٧٥هـ) ابن قاضي خان, كنز العمال في
سنن الأقوال والأفعال
(بيروت
- لبنان: مؤسسة الرسالة,
n.d.). (7/ 26)
[85] البخاري,
صحيح البخاري. (5/ 386)
[86] أبو عبد
الرحمن أحمد بن شعيب بن علي بن سنان بن بحر بن دينار الخراساني النسائي, سنن
النسائي, الطبعة: الأولى، ١٣٤٨ هـ-١٩٣٠ م (: المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة, n.d.). (8/ 74):
[87] [النور:
2]
[88] [المائدة: 38]
[89] [البقرة: 178]
[90] الصنعاني,
المصنف. (5/
94 ط التأصيل الثانية)
[91] محمد بن أبي بكر بن أيوب بن سعد شمس الدين ابن قيم الجوزية ابن قيم, إعلام الموقعين عن رب العالمين, الطبعة: الأولى، ١٤١١هـ-١٩٩١م (دار الكتب العلمية - ييروت, n.d.). (2/ 123 ط العلمية)