*اہم نکات*
1۔حضرات صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بعض بعض سے افضل ہیں جیسا کہ انبیاء کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے۔
2۔ سب صحابہ میں
خلفائے راشدین اپنی ترتیب کے مطابق باقی تمام صحابہ میں افضل ترین ہیں۔ پھر عشرہ
مبشرہ کے بقایا صحابہ کرام پھر فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے۔ان میں بھی قربانی،
اسلام کے وقت، ہجرت کی کیفیات اور اسلام و مسلمین کے لئے خدمات کے لحاظ سے فرق ہے۔
اور پھر فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
3.ہر صحابئ نبی
باقی تمام امت سے بلا شبہ افضل ہے۔
4.فتح مکہ کے
موقع پر اسلام لانے والے صحابہ کرام کو طلقاء کہا جاتا ہے مگر یہ لفظ اہانت نہیں
ہے۔ اور نہ اس کی وجہ سے ان حضرات کی صحابیت مجروح ہوتی ہے۔
4ـ خلیفۂ راشد کی
اصطلاح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تیس سال کی مدت کے امراء تک کے
لئے بطور خلافت منصوصہ کے استعمال کی جاتی ہے۔ اس حدیث کے حسن ہونے پر اہلسنت
والجماعت کے بڑے بڑے ائمہ حدیث متفق ہیں۔[1]
5ـ حضرت عمر بن عبد
العزیز کو لغوی معنیٰ کے لحاظ سے خلیفۂ راشد قرار دیا جاتا ہے نہ کہ منصوص خلیفہ
راشد۔ لغوی معنی کے لحاظ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ اس کے حضرت عمر بن
عبد العزیز رحمہ اللّٰہ سے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر ان کے لئے اہلسنت 'امیر' کا لفظ
خلافت منصوصہ اور غیر منصوصہ میں فرق کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
5ـ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی
مشاجرات کے بارے میں احادیث کی روشنی میں اہلسنت والجماعت نے رائے قائم کی ہے۔
اگرچہ اس کا بار بار اعادہ خوش گوار نہیں ہے۔ مگر اس کا علم رکھنا اہم ہے۔ کیونکہ
اس سے ناواقفیت قدیم اور جدید علمائے اہلسنت کے عمل اور فیصلوں کے بارے میں بدگمانی
پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
6ـ کسی شخص کی
رائے کا کوئی پہلو اگر کسی کو سمجھ میں نہ آئے تو بجائے سوشل میڈیا پر تضحیک کرنے
کے، اہلسنت والجماعت کے معتبر اداروں سے بصورت استفتا معلوم کرنا چاہیے اور پھر وہ
فتوی متعلقہ شخص کو یا پبلک میں شئیر کرنے میں حرج نہیں ہے۔
7ـ حضرت امیر معاویہ
رضی اللّٰہ عنہ سے تمام اہلسنت نہ صرف ان کے صحابی ہونے کی وجہ سے بلکہ کاتب وحی
اور مومنین کے ماموں ہونے کی وجہ سے محبت رکھتے ہیں۔ کسی معتبر عالم دین سے ان کے
بغض کی توقع رکھنا بدگمانی اور نامناسب عمل ہے۔
8۔ اگر واقعۃ کسی جگہ کسی عالم نے حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خلاف ادب زبان استعمال کی ہے تو اس میں اصلاح کرنا ضروری ہے۔
9۔ ناصبیت صحابہ ٔ کرام کی محبت اور ادب کا نام نہیں بلکہ اہلِ بیت خاص کرحضرت ِ علی رضی اللہ عنہ کی شان کو گھٹانا یا ان کو خلیفۂ رابع و خلیفۂ برحق نہ ماننے کا نام ہے۔
